انٹرنیشنل ڈیسک: یوگنڈا کی دفاعی افواج کے سربراہ موہوزی کائنیروگابا نے ترکی کے حوالے سے ایک انتہائی متنازع بیان دیا ہے۔ انہوں نے ترکی سے 30 دن کے اندر 1 ارب ڈالر دینے اور وہاں کی “سب سے خوبصورت خاتون” سے شادی کا مطالبہ کیا۔ یہ بیان انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر دیا، تاہم بعد میں یہ پوسٹ ہٹا دی گئی۔ ان کے اس بیان سے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچ گئی ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟
جنرل کائنیروگابا نے ترکی پر الزام لگایا کہ اس نے صومالیہ میں بنیادی ڈھانچے اور بندرگاہ کے منصوبوں سے فائدہ اٹھایا ہے، جبکہ یوگنڈا کے فوجی برسوں سے الشباب دہشت گردوں کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس “سکیورٹی تعاون” کے بدلے ترکی کو یوگنڈا کو 1 ارب ڈالر ادا کرنے چاہئیے۔
شادی والے مطالبے نے بڑھایا تنازع۔
اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ ترکی کی “سب سے خوبصورت خاتون” سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس عجیب مطالبے نے معاملے کو مزید متنازع بنا دیا۔ جنرل نے کہا کہ اگر 30 دن کے اندر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو یوگنڈا ترکی کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات ختم کر دے گا۔
کمپالا میں ترکی کا سفارت خانہ بند کیا جا سکتا ہے۔
اردوغان کا بھی ذکر۔
انہوں نے رجب طیب اردوان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے استنبول میں ملاقات کی امید رکھتے ہیں اور وہاں ان کا استقبال “ہیرو” کی طرح کیا جائے گا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کائنیروگابا تنازعات میں آئے ہیں۔ 2022 میں انہوں نے کینیا پر حملہ کر کے دارالحکومت نیروبی پر قبضہ کرنے کی بات کہی تھی، جس کے بعد حکومت کو معافی مانگنی پڑی تھی۔ انہوں نے پہلے اٹلی کی وزیر اعظم کو بھی عجیب شادی کی پیشکش کی تھی۔ یوگنڈا کے آرمی چیف کا یہ بیان سفارتی آداب سے ہٹ کر اور انتہائی غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اسے سرکاری پالیسی سمجھا جائے گا یا ذاتی بیان، لیکن اس سے بین الاقوامی سطح پر تنازع ضرور بڑھ گیا ہے۔