National News

بنگلہ دیش انتخابی تشدد: بی این پی کے ساتھ جھڑپ میں جماعتِ اسلامی کے رہنما کی موت، 65 زخمی

بنگلہ دیش انتخابی تشدد: بی این پی کے ساتھ جھڑپ میں جماعتِ اسلامی کے رہنما کی موت، 65 زخمی

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں انتخابات ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں، مگر سیاسی تشدد رکنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ بدھ کو شیرپور ضلع میں انتخاب سے متعلقہ تشدد میں جماعتِ اسلامی کے ایک رہنما کی موت ہو گئی۔ جھڑپوں میں کم از کم 65 لوگ زخمی بھی ہو گئے۔ یہ تشدد بی این پی اور جماعت کے کارکنوں کے درمیان ہوا۔ ہلاک شدہ کی شناخت مولانا محمد رضاول کریم (42) کے طور پر کی گئی، جو جماعت کی سریبورڈی ضمنی ضلع اکائی کے سکریٹری تھے۔ وہ شدید زخمی ہو گئے اور انہیں میمن سنگھ میڈیکل کالج ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کی رات تقریباً 9:45 بجے موت واقع ہوئی۔
50 جماعت کے کارکن بھی زخمی ہوئے
شیرپور-3 حلقے سے جماعت کے امیدوار نوروزمان بادل کے مطابق، جھڑپ کے دوران رضاول کریم سمیت تقریباً 50 جماعت کے کارکن اور حمایتی زخمی ہو گئے۔ رضاول کریم کے ساتھ امین اللہ اسلام اور مولانا طاہر الاسلام کو بھی شدید حالت میں میمن سنگھ میڈیکل کالج ہسپتال لے جایا گیا۔ بعد میں بہتر علاج کے لیے طاہر الاسلام کو ڈھاکہ ریفر کر دیا گیا۔ مقامی لوگوں اور چشم دید گواہوں کے مطابق، جھنے گھاٹی ضمنی ضلع منی اسٹیڈیم میدان میں ایک تقریب کے دوران دوپہر 3 بجے کے قریب تشدد بھڑک اٹھا۔ بظاہر یہ جھگڑا اگلی قطار میں بیٹھنے کو لے کر شروع ہوا، جو بعد میں پرتشدد جھڑپ میں بدل گیا۔ اس واقعے کے بعد بی این پی نے شیرپور ضلع اکائی کی 41 رکن کمیٹی کو معطل کر دیا۔ یہ جھڑپ شیرپور-3 حلقے میں ہوئی، جس کی وجہ سے علاقے میں تناو¿ پیدا ہو گیا۔



Comments


Scroll to Top