انٹرنیشنل ڈیسک: بنگلہ دیش کے نرسندی ضلع میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں 25 سالہ ہندو نوجوان چنچل بھومک آگ میں جھلس کر ہلاک ہو گیا۔ وہ ایک موٹر ورکشاپ میں سو رہا تھا کہ اسی دوران رات گئے آگ لگ گئی۔ پولیس کے مطابق آگ دکان کے اندر سے ہی بھڑکی، تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج میں واقعے سے پہلے ایک مشتبہ شخص کو آس پاس گھومتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس سے سازش کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ نرسندی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ عبداللہ الفاروق نے اے این آئی کو بتایا کہ ہم سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر رہے ہیں۔
A case of the brutal murder of a 23-year-old Hindu man, Chanchal Chandra Bhowmik, has come to light in the Narsingdi area of Bangladesh. It is suspected that he was burned alive inside a garage. Chanchal was from Cumilla district and had been living and working in a garage in… pic.twitter.com/jY24g3WNIW
— Galgotias Times (@galgotiastimes) January 25, 2026
یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ آگ بجلی کی خرابی کے باعث لگی یا کسی بیرونی وجہ سے۔ انہوں نے بتایا کہ فائر سروس نے شٹر توڑ کر نوجوان کو باہر نکالنے کی کوشش کی، لیکن اس وقت تک اس کا جسم مکمل طور پر جھلس چکا تھا۔ فی الحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بنگلہ دیش میں فرقہ وارانہ کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فروری 2026 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ملک کا ماحول انتہائی حساس بنا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اگست 2024 میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے اقلیتوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ صرف دسمبر کے مہینے میں ہی 51 پرتشدد واقعات درج کیے گئے، جن میں قتل، لوٹ مار، آتش زنی اور مندروں پر حملے شامل ہیں۔
Another Hindu killed by Jihadi Bangladeshi Muslims . This man name is Ranjan Bhowmik , He is a garage worker ,He was killed by burning him with petrol like #DipuChandraDas #bangladeshihindu #BangladeshCrisis pic.twitter.com/42vq1Wid22
— Ex Muslim Shakil 🇮🇳 (@exmuslimshakil) January 25, 2026
ہندوستان کی وزارت خارجہ نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ عبوری حکومت کے دور میں اب تک 2,900 سے زائد اقلیت مخالف پرتشدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ ادھر سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے عبوری حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش دہشت کے دور میں داخل ہو چکا ہے اور اقلیتی برادری غیر محفوظ ہو گئی ہے۔ لندن سمیت کئی ممالک میں بنگلہ دیشی ہندو برادری نے مظاہرے کر کے عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔