National News

بنگلہ دیش میں ہندووں کے قتل پر برطانیہ سخت، برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا معاملہ

بنگلہ دیش میں ہندووں کے قتل پر برطانیہ سخت، برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا معاملہ

لندن: برطانیہ کی حکومت نے بنگلہ دیش میں “ہر طرح کی تشدد” کی مذمت کی ہے اور پرامن اور قابلِ اعتماد انتخابات کرانے کی اپیل کی ہے۔بنگلہ دیش میں ہندووں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے قتل کا مسئلہ برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں ‘ہاوس آف کامنز’ میں اٹھائے جانے پر برطانیہ کی حکومت نے یہ بات کہی۔اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ باب بلیک مین نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں ایک بیان میں لیبر پارٹی کی قیادت والی حکومت سے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنے اور یہ یقینی بنانے کی اپیل کی کہ بنگلہ دیش میں فروری میں ہونے والے انتخابات “آزاد اور منصفانہ” ہوں۔

برطانوی ہندووں کے لیے آل پارٹی پارلیمانی گروپ کے صدر بلیک مین نے برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ سے کہا کہ ہندووں کے قتل اور ان کے مندروں کو جلائے جانے کی “خوفناک صورتحال” سے وہ “حیران و ششدر” ہیں۔انہوں نے کہا، “سڑکوں پر کھلے عام ہندووں کو قتل کیا جا رہا ہے، ان کے گھر جلائے جا رہے ہیں، مندروں کو آگ لگائی جا رہی ہے اور دیگر مذہبی اقلیتوں کی حالت بھی ایسی ہی ہے۔”
انہوں نے کہا، “اگلے مہینے نام نہاد آزاد اور منصفانہ انتخابات ہونے والے ہیں۔ بنگلہ دیش کی بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ کو ان انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ رائے عامہ کے سروے کے مطابق اسے تقریباً 30 فیصد حمایت حاصل ہے۔”انہوں نے کہا کہ اسی طرح اسلامی انتہا پسندوں نے ایک ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے جو بنگلہ دیش کے آئین کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔

بلیک مین نے ‘ہاوس آف کامنز’ کے رہنما ایلن کیمبل سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے کو وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر کے سامنے اٹھائیں اور بنگلہ دیش میں “جامع” انتخابات اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے برطانیہ کی جانب سے کیے جا رہے اقدامات کے بارے میں پارلیمنٹ کو آگاہ کریں۔کیمبل نے کہا، “ہم انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے طویل مدت سے پرعزم ہیں۔ ہم بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سامنے اس بات پر مسلسل زور دیتے رہیں گے۔ ہم تشدد کے تمام واقعات کی مذمت کرتے ہیں، چاہے وہ مذہبی ہوں یا نسلی، اور ہم عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کی جانب سے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کی گئی یقین دہانیوں کا خیر مقدم کرتے ہیں، جن میں گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔”

کیمبل نے بلیک مین کو یقین دلایا کہ وہ ان کے پارلیمانی بیان کی طرف وزیرِ خارجہ کی توجہ مبذول کرائیں گے اور کہا کہ فارن، ڈیولپمنٹ اینڈ کامن ویلتھ آفس مناسب وقت پر ایک بیان پر غور کرے گا۔بلیک مین نے یہ مداخلت اپنی پارٹی کی رہنما پریتی پٹیل کی جانب سے بنگلہ دیش کی “انتہائی تشویشناک” صورتحال پر ایویٹ کوپر کو خط لکھے جانے اور “تشدد میں اضافے” کے بعد برطانیہ کی مداخلت کی اپیل کیے جانے کے ایک ہفتے بعد کی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top