لکھنؤ: اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں 20 سالہ لڑکی کے ساتھ آن لائن نوکری کا جھانسہ دے کر استحصال اور زبردستی جسم فروشی میں دھکیلنے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ متاثرہ، جو نئی دہلی کے دریا گنج علاقے کی رہنے والی ہے، نے بتایا کہ سال 2021 میں نوکری کی تلاش کے دوران اس کی ملاقات بہار کے کشن گنج کے رہنے والے قمر جمال عرف جاوید سے ہوئی۔ ملزم نے اسے نوکری دلانے کا یقین دلا کر لکھنؤ بلایا۔
لڑکی کا الزام ہے کہ گومتی نگر کے ایک کیفے میں اسے نشہ آور چیز دے کر زیادتی کی گئی اور نازیبا ویڈیو بنا لی گئی۔ بعد میں اسی ویڈیو کے ذریعے اسے بلیک میل کر کے غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ الزام کے مطابق اسے مختلف اسپا سینٹروں میں بھیجا گیا، جہاں کئی لوگوں نے اس کا استحصال کیا۔ مخالفت کرنے پر مارپیٹ اور جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔ لڑکی نے یہ بھی کہا کہ اسے کچھ وقت تک یرغمال بنا کر رکھا گیا اور رابطے کے تمام ذرائع چھین لیے گئے۔
اس معاملے میں گومتی نگر تھانے کی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ تھانہ انچارج برجیش چندر تیواری کے مطابق، تمام الزامات کی سنجیدگی سے تفتیش کی جا رہی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔