انٹرنیشنل ڈیسک: انگلینڈ میں خواتین جیل افسران اور قیدیوں کے درمیان ناجائز تعلقات کے معاملات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ ایک تازہ معاملہ نارتھمپٹن شائر سے سامنے آیا ہے، جہاں صرف 19 سال کی ایک خاتون جیل افسر نے ڈیوٹی کے دوران قیدی سے نہ صرف رومانوی تعلق قائم کیا بلکہ اس کے لیے جیل میں چرس اور موبائل فون کی اسمگلنگ بھی کی۔ اب اسے خود جیل جانا پڑ سکتا ہے
ملزم خاتون جیلر کون ہے
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق، ایلیسیا نوواس نامی یہ نوجوان خاتون گزشتہ سال ویلنگبورو کے قریب واقع ایچ ایم پی فائیو ویلز جیل میں جیل افسر کے طور پر مقرر ہوئی تھی۔ کم عمر ہونے کے باوجود اسے ایک نہایت ذمہ دار عہدہ سونپا گیا تھا۔ لیکن ملازمت شروع کرنے کے چند ہی مہینوں کے اندر وہ ایک قیدی کی محبت میں مبتلا ہو گئی۔
چار ماہ تک چلنے والا افیئر
عدالت میں بتایا گیا کہ نوواس نے زمرہ (کیٹیگری ) سی کی فائیو ویلز جیل میں بند30 سالہ قیدی ڈیکلن ونکلیس کے ساتھ تقریبا چار ماہ تک تعلق رکھا۔ ونکلیس لیسٹر شائر میں ہونے والی کئی سلسلہ وار ڈکیتیوں میں ملوث تھا اور 11 سال کی سزا کاٹ رہا تھا۔ اس دوران دونوں کے درمیان قربتیں بڑھتی چلی گئیں۔
جیل میں پہنچائی گئی چرس اور موبائل
نارتھمپٹن کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ ایلیسیا نوواس نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے قیدی کے لیے چرس اور ایک موبائل فون جیل کے اندر پہنچایا۔ اس کے علاوہ اس نے ونکلیس کو اپنا موبائل نمبر بھی دیا اور اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے۔ یہ تمام امور جیل کے قواعد اور قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
عدالت نے تحویل میں بھیج دیا
نارتھمپٹن شائر کے راؤنڈز علاقے کی رہائشی نوواس نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
اسے عوامی عہدے کے غلط استعمال کے دو معاملات اور جیل افسر کے طور پر اپنے دور سے متعلق چار دیگر جرائم میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے اسے تحویل میں بھیج دیا۔ اس کی سزا پر جنوری میں فیصلہ سنایا جائے گا۔
پورے ملک میں بڑھ رہے ایسے معاملات
کبھی پیشہ ورانہ اخلاقیات کی اس قدر بڑی خلاف ورزی پورے ملک میں مذمت کا باعث بنتی تھی، لیکن اب ایسے معاملات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایلیسیا نوواس اکیلی نہیں ہے۔ گزشتہ ایک سال میں کم از کم 9 دیگر خواتین جیل ملازمین پر قیدیوں کے ساتھ نامناسب یا جنسی تعلقات رکھنے کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔ ان میں فحش چیٹنگ، منشیات اور موبائل فون کی اسمگلنگ اور قیدیوں کے ساتھ تعلقات شامل ہیں۔ کچھ معاملات میں تو جیل سے رہائی کے بعد بھی تعلقات جاری رہے۔
5 سال میں 64 خواتین جیلر ملازمت سے نکالی گئیں
اطلاعات تک رسائی کے قانون ( RTI)) کے تحت سامنے آنے والی جانکاری کے مطابق، سال 2019 سے 2024 کے درمیان قیدیوں کے ساتھ نامناسب تعلقات رکھنے کے الزامات میں 64 خواتین جیل ملازمین کو برطرف کرنے کی سفارش کی گئی۔ گزشتہ ماہ ہی نوواس کے ساتھ تین دیگر جیل گارڈ بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ
ماہرین کا ماننا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس اعداد و شمار میں وہ ملازمین شامل نہیں ہیں جنہوں نے تفتیش شروع ہونے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا، اور نہ ہی اس میں بیرونی اداروں کے ملازمین کو شمار کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ کئی ایسے معاملات بھی ہو سکتے ہیں جو کبھی منظر عام پر ہی نہیں آئے۔
ماہرین کی وارننگ
ماہرین کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں جیل کی ملازمت کے لیے عمر کی حد کم کیے جانے کے بعد بہت کم عمر افسران مقرر ہو رہے ہیں۔ تجربے کی کمی کے باعث یہ نوجوان افسران چالاک، پرتشدد اور تجربہ کار قیدیوں کے جذباتی جال میں جلد پھنس جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے قیدی ان سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جس سے نہ صرف جیل کی سکیورٹی بلکہ پورے نظام پر سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں۔