National News

شیش محل پر بڑا انکشاف: کیجریوال کے سرکاری بنگلے پر342 فیصد زیادہ خرچ، کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں چونکا دینے والی بے ضابطگیاں

شیش محل پر بڑا انکشاف: کیجریوال کے سرکاری بنگلے پر342 فیصد زیادہ خرچ، کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں چونکا دینے والی بے ضابطگیاں

نیشنل ڈیسک: دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی سرکاری رہائش گاہ نمبر 6 فلیگ اسٹاف روڈ کی مرمت اور نئی آرائش کو لے کر بڑا تنازع سامنے آیا ہے۔ کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں خرچ اور ضابطوں کے بارے میں سنگین سوال اٹھائے گئے ہیں۔
اندازے سے کئی گنا بڑھ گیا خرچ۔
رپورٹ کے مطابق۔

  • ابتدائی اندازہ 7.91 کروڑ روپے تھا۔
  • آخری خرچ 33.66 کروڑروپے ۔

یعنی کل خرچ تقریباً 342 فیصد زیادہ ہو گیا۔اس میں سے تقریباً18.88 کروڑ روپے صرف مہنگی اندرونی آرائش سجاوٹ اور قدیم سامان پر خرچ کیے گئے۔
پہلے کام بعد میں منظوری۔
کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل نے پایا کہ مرمت مکمل ہونے کے 2ماہ بعد9.34 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔یعنی کام پہلے کرایا گیا اور منظوری بعد میں ملی۔جو ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔
عملے کے لیے بلاک بنا ہی نہیں۔
رپورٹ میں سامنے آیا کہ عملے کا بلاک اور کیمپ دفتر کے لیے19.87کروڑ روپے منظور کیے گئے تھے لیکن عملے کے لیے بلاک بنایا ہی نہیں گیا۔اس کی جگہ سات خادم رہائشیں بنا دی گئیں۔وہیں کیمپ دفتر مستقل کے بجائے عارضی بنایا گیا اور وہ بھی ادھورا رہ گیا۔
رقبہ بڑھایا گیا اور بدلا گیا نقشہ
کام کے دوران بنگلے کا رقبہ 1397 مربع میٹر سے بڑھا کر1905 مربع میٹر کر دیا گیا۔
مہنگے اور خاص نقشے شامل کیے گئے۔اس میں لاگت مسلسل بڑھتی چلی گئی۔
ایک ہی ٹھیکیدار کو ملاپورا کام۔

  • اضافی کام کے لیے نیا ٹھیکہ جاری نہیں کیا گیا۔
  • ایک ہی ٹھیکیدار کو تقریباً 25.80کروڑ روپے کا کام دے دیا گیا۔
  • خرچ کو برابر کرنے کے لیے اندازہ چار بار بدلا گیا۔

شیش محل بنا سیاسی مسئلہ 
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس بنگلے کو شیش محل نام دیا تھا اور اب یہ معاملہ سیاسی تنازع کا بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔



Comments


Scroll to Top