انٹرنیشنل ڈیسک: ہندوستان کے لیے یہ انتہائی فخر کا لمحہ ہے۔ ہندوستانی کوہ پیما روہتاش کھلیری نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو آج تک دنیا میں کوئی نہیں کر سکا۔ انہوں نے یورپ کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایلبرس پر بغیر آکسیجن کے پورے چوبیس گھنٹے گزار کر عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ایسا کرنے والے وہ دنیا کے پہلے انسان بن گئے ہیں۔
ماؤنٹ ایلبرس: جہاں موسم جان لیوا ہے
ماؤنٹ ایلبرس روس کی قفقاز پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ اس کی بلندی اٹھارہ ہزار پانچ سو دس فٹ ہے اور یہ نہ صرف یورپ کی سب سے بلند چوٹی ہے بلکہ دنیا کی سیون سمٹس (سات براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں )میں بھی شامل ہے۔
یہ پہاڑ اپنے خوفناک گلیشیئرز، تیز طوفانی ہواؤں اور انتہائی کم درجہ حرارت کے لیے جانا جاتا ہے۔
WORLD RECORD | First human to stay 24 hours on Europe’s highest peak — without oxygen. 🚩
“24 Hours on the Top of Europe! 🏔️❄️”
Ye post likhna aasaan nahi hai…
kyunki isme 8 saal ka dard, intezaar aur ek pagalpan bhara sapna juda hai. Aaj main duniya ka pehla insaan bana,… pic.twitter.com/jSVSMXip3k
— Bishnoi (@rohtashkhileri) January 20, 2026
سوشل میڈیا پر کامیابی شیئر کی
روہتاش کھلیری نے اس تاریخی کامیابی کی اطلاع ایکس(سابقہ ٹوئٹر)پر ایک جذباتی پوسٹ کے ذریعے دی۔ انہوں نے بتایا کہ بغیر آکسیجن کے چوٹی پر چوبیس گھنٹے رکنا کوئی اچانک کیا گیا فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ آٹھ سال کی محنت، درد، انتظار اور جنون کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ عالمی ریکارڈ، یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر بغیر آکسیجن کے چوبیس گھنٹے گزارنے والا پہلا انسان۔ یورپ کی چوٹی پر چوبیس گھنٹے۔ یہ پوسٹ لکھنا آسان نہیں ہے کیونکہ اس کے پیچھے آٹھ سال کا درد، انتظار اور ایک پاگل پن سے بھرا خواب چھپا ہے۔
جان لیوا سردی میں اکیلے جمے رہے
کھلیری نے بتایا کہ وہ اکیلے ہی چڑھے اور اکیلے ہی چوٹی پر رکے۔ اتنی خطرناک سردی میں کوئی بھی ان کے ساتھ رکنے کو تیار نہیں تھا۔ انہوں نے لکھا کہ میں اکیلا ہی چڑھا اور اکیلا ہی رکا۔ اس ہڈیاں توڑ دینے والی سردی میں کوئی بھی میرے ساتھ رکنے کو تیار نہیں تھا۔
موسم کی حالت انتہائی خطرناک
ماؤنٹ ایلبرس پر اس وقت موسم نہایت خوفناک تھا۔
ہوا کی رفتار : پچاس سے ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔
درجہ حرارت : منفی چالیس ڈگری سیلسیس تھا۔
ونڈ چِل : منفی پچاس ڈگری سیلسیس سے بھی کم تھی۔
ایسے حالات میں بغیر آکسیجن زندہ رہنا بذات خود غیر معمولی ہے۔
یہ پہلی کوشش نہیں تھی
روہتاش کھلیری نے بتایا کہ یہ ان کی پہلی کوشش نہیں تھی۔ انہوں نے 2018 سے پہلے کئی بار چڑھائی کی کوشش کی، لیکن کبھی خراب موسم تو کبھی ہنگامی حالات کے باعث انہیں واپس لوٹنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نے ہار نہیں مانی۔
پہاڑ نے انگلیاں لے لیں، خواب نہیں
اس سفر کی بھاری قیمت بھی انہیں ادا کرنی پڑی۔ پہلے کے تجربات میں انہیں فراسٹ بائٹ ہو گیا تھا، جس کے باعث ان کی دو انگلیاں کاٹنی پڑیں۔ انہوں نے جذباتی انداز میں لکھا کہ 'فراسٹ بائٹ میں میری دو انگلیاں چلی گئیں، لیکن میرا خواب نہیں ٹوٹا'۔
چوبیس گھنٹے کا قیام سب سے بڑا امتحان
کھلیری نے بتایا کہ چوٹی پر چوبیس گھنٹے گزارنا ان کی زندگی کا سب سے مشکل امتحان تھا۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا ایورسٹ پر حاصل کی گئی تربیت، برسوں کی محنت اور اپنے قریبی لوگوں کی حمایت کو دیا۔
چوٹی سے ترنگا لہرایا
اپنی پوسٹ کے ساتھ انہوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں شدید برف باری، تیز ہوائیں اور چوٹی پر لہراتا ہوا ہندوستانی ترنگا نظر آ رہا ہے۔ ویڈیو میں وہ نیچے اترتے ہوئے یہ انتباہ بھی دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ موسم مزید خراب ہونے والا ہے۔ ان کی بھنویں اور مونچھیں برف سے جمی ہوئی صاف نظر آتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر فخر اور احترام
اس پوسٹ کو سوشل میڈیا پر زبردست ردعمل ملا۔ ہزاروں افراد ان کی ہمت اور جذبے کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ہم آپ کے جوش اور صبر کو سلام کرتے ہیں۔ ہر ہندوستانی کو آپ پر فخر ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے نے کہا کہ بھائی، آج پورا ملک آپ پر فخر کر رہا ہے۔
ماؤنٹ ایلبرس پر ہندوستانیوں کی بڑھتی کامیابیاں
روہتاش کھلیری کی یہ کامیابی ماؤنٹ ایلبرس پر ہندوستانیوں کی بڑھتی ہوئی فتوحات میں ایک اور سنہرا باب جوڑتی ہے۔
- جون 2025 : میں پنجاب کے چھ سالہ تیغ بیر سنگھ سب سے کم عمر میں ایلبرس سر کرنے والے بنے، عمر چھ سال نو ماہ چار دن تھی۔
- 2025 : میں نریندر یادو ایلبرس پر تین بار چڑھائی کرنے والے پہلے ہندوستانی بنے۔
- 15 اگست 2024: انکت ملک نے چوٹی پر 78 میٹر لمبا ہندوستانی پرچم لہرایا، جو کسی ایک کوہ پیما کے ذریعے لہرایا گیا سب سے بڑا ترنگا تھا۔
- اگست2021 : مہاراشٹر کے شرد کلکرنی 59 برس کی عمر میں ایلبرس سر کرنے والے سب سے معمر ہندوستانی بنے۔