انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناو¿کے درمیان متحدہ عرب امارات برطانیہ فرانس جرمنی سمیت بائیس ممالک نے ایران کے خلاف متحد ہو کر بڑا محاذ کھول دیا ہے۔ ان ممالک نے مشترکہ بیان جاری کر کے ہرمز تنگی میں جہازوں پر حملوں اور آبی راہ کو بند کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے کمرشل جہازوں تیل و گیس کے اداروں اور شہری ڈھانچوں کو نشانہ بنانا پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ممالک نے ایران سے فوری طور پر میزائل ڈرون حملے اور سمندر میں مائنز بچھانے جیسی سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔

ان ممالک نے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کی قرارداد کے تحت نیویگیشن کی آزادی کو ایک بنیادی حق قرار دیتے ہوئے تمام ممالک سے بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ذریعے اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر سے تیل جاری کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تاکہ توانائی کی مارکیٹ مستحکم رکھی جا سکے۔ ان ممالک نے یہ بھی کہا کہ وہ عالمی توانائی کی فراہمی کو محفوظ رکھنے اور بحران سے متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اس پورے واقعے سے واضح ہے کہ ہرمز تنگی کا بحران اب عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور اگر جلد حل نہ نکلا تو اس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔