National News

کمپنی نے حاملہ ملازمہ کو نہیں دیا ورک فرام ہوم ، اب ادا کرنا پڑے گا 200کروڑ کا جرمانہ

کمپنی نے حاملہ ملازمہ کو نہیں دیا ورک فرام ہوم ، اب ادا کرنا پڑے گا 200کروڑ کا جرمانہ

انٹرنیشنل ڈیسک: ایک کمپنی کو اپنی حاملہ ملازمہ کے ساتھ لاپرواہی برتنے کے معاملے میں بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ امریکہ میں عدالت نے کمپنی کو تقریباً 22 اعشاریہ 5 ملین ڈالر یعنی لگ بھگ 200 کروڑ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاملہ چیلسی والش نامی خاتون سے جڑا ہے جو ٹوٹل کوالٹی لاجسٹکس میں کام کرتی تھیں۔ چیلسی کا حمل خطرے والا تھا اور ڈاکٹروں نے انہیں زیادہ آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کمپنی سے گھر سے کام کرنے کی اجازت مانگی لیکن کمپنی نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یا تو وہ دفتر آ کر کام کریں یا بغیر تنخواہ کے چھٹی لیں۔

PunjabKesari
بغیر تنخواہ چھٹی لینے کا مطلب تھا کہ ان کی آمدنی اور صحت بیمہ ختم ہو جاتا اس لیے مجبوری میں انہوں نے دفتر جا کر کام جاری رکھا۔ کچھ ہی دن بعد انہیں وقت سے پہلے زچگی کا درد ہوا اور انہوں نے ایک بچی کو جنم دیا لیکن پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی بچی کی موت ہو گئی۔ یہ قبل از وقت پیدائش تھی جو مقررہ وقت سے تقریباً 18 ہفتے پہلے ہوئی تھی۔ اس کے بعد چیلسی نے کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کیا اور اسے اس سانحے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ جیوری نے خاتون کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی کو قصوروار مانا اور بھاری جرمانہ لگایا۔ یہ فیصلہ ملازمین کے حقوق خاص طور پر حاملہ خواتین کی حفاظت اور سہولت کے حوالے سے ایک اہم مثال سمجھا جا رہا ہے۔



Comments


Scroll to Top