بریلی: اتر پردیش کے ضلع بریلی کے بشارت گنج تھانہ علاقے کے محمد گنج گاؤں میں ایک خالی پڑے مکان میں بغیر انتظامیہ کی اجازت کے نماز ادا کرنے کے الزام میں پولیس نے 12 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق خالی مکان میں مبینہ طور پر اجتماعی نماز ادا کیے جانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ جنوبی انشیکا ورما نے بتایا کہ خالی پڑے مکان کو عارضی طور پر مدرسے کی طرح استعمال کر کے کئی ہفتوں سے اجتماعی جمعہ کی نماز ادا کیے جانے کی اطلاع ہفتے کے روز سامنے آئی تھی اور اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے احتیاطی کارروائی کی۔
پولیس نے امن و امان میں خلل ڈالنے کی دفعات کے تحت چالان کیا
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے موقع سے ہفتے کے روز 12 افراد کا امن و امان میں خلل ڈالنے کی دفعات کے تحت چالان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کو اسی روز مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے انہیں ضمانت مل گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس فرار تین ملزمان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے۔ ورما نے کہا کہ بغیر اجازت کسی بھی قسم کی نئی مذہبی سرگرمی یا پروگرام کا انعقاد قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کی سرگرمیوں پر سختی سے کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے عام لوگوں سے امن اور قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ جانچ میں سامنے آیا کہ مذکورہ خالی مکان حنیف نامی شخص کا ہے جسے عارضی مدرسے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جب پولیس نے تحریری اجازت یا قانونی دستاویزات طلب کیں تو کوئی بھی کاغذات پیش نہیں کیے جا سکے۔ پولیس نے بتایا کہ دیہاتیوں کا الزام ہے کہ متعلقہ مکان میں مسلسل جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی تھی جبکہ اس کے لیے کسی قسم کی انتظامی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم گاؤں پہنچی اور مکان کے اندر جاری اجتماعی نماز کو رکوایا۔ اس معاملے سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے جس میں لوگ خالی مکان کے اندر اجتماعی نماز ادا کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ پولیس نے اس ویڈیو کو جانچ میں شامل کر لیا ہے۔