لندن: پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی حکومت اور پنجاب پولیس کی جانب سے پنجاب کیسری اخبار اور اس کے صحافیوں کے خلاف چلائی جا رہی جبر و زیادتی کی مہم اب بین الاقوامی سطح پر اس کی سچائی سامنے آ گئی ہے۔ حکومت کی ناکامیوں اور من مانی پالیسیوں کو بے خوفی سے اجاگر کرنے کی “سزا” کے طور پر اخبار کے عملے پر جھوٹے اور من گھڑت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ اس سیاسی انتقام کی کارروائی کے خلاف اب اقوام متحدہ اور انگلینڈ کے آل پارٹی پارلیمانی اراکین کو تحریری اپیلیں بھیج کر فوری مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آل پارلیمنٹ ممبران کے چیئرمین جس اٹوال، پہلے سکھ ایم پیز تنمنجیت سنگھ ڈھیسی اور پریت کور گل کو ای میل کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ کس طرح پنجاب کیسری گروپ کو منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پنجاب پولیس کو سرکاری ہتھیار بنا کر صحافیوں اور دیگر عملے کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔اپیل میں دو ٹوک کہا گیا ہے کہ بھارتی ریاست میں پہلے سکھوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن اب بھگونت مان حکومت نے جمہوریت کا نقاب اتار کر سچ لکھنے والی پریس کو ہی خاموش کرانے کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ یہ صرف ایک اخبار پر حملہ نہیں بلکہ اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوریت کے گلے پر چھری چلانے کے برابرہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آج پنجاب کیسری کو سرکاری زور کے ساتھ کچلا گیا تو کل پنجاب میں کوئی بھی صحافی سچ لکھنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اسی لیے اقوام متحدہ اور برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھارتی اور پنجاب حکومت پر فوری دباو ڈالیں تاکہ اس آمرانہ رجحان کو روکا جا سکے۔اس معاملے نے بیرون ملک بسنے والی پنجابی برادری اور انسانی حقوق سے وابستہ تنظیموں میں شدید غصہ اور تشویش پیدا کر دی ہے۔ جمہوریت پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ صرف ایک اخبار پر نہیں بلکہ پورے پنجاب کی آواز پر ہے، اگر اب بھی یہ ظلم نہ رکا تو پنجاب میں صرف سرکاری تشہیر باقی رہ جائے گی، سچ نہیں۔