انٹرنیشنل ڈیسک: بنگلہ دیش کی سبکدوش ہونے والی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے اپنے الوداعی خطاب میں ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں کے بارے میں ایسا بیان دے دیا جس سے ایک بار پھر ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نئی تلخی پیدا ہو گئی ہے۔ یونس نے ہندوستان کی 'سیون سسٹرز' کو نیپال اور بھوٹان جیسے خود مختار ممالک کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا، جسے کئی تجزیہ کاروں نے سفارتی غیر حساسیت قرار دیا۔ قومی ٹیلی وژن پر دیے گئے خطاب میں یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش کا سمندر صرف سرحد نہیں بلکہ عالمی معیشت سے جڑنے کا دروازہ ہے اور نیپال، بھوٹان اور سیون سسٹرز کے ساتھ مل کر اس خطے میں بڑے معاشی امکانات موجود ہیں۔ لیکن ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں کو الگ شناخت کے طور پر پیش کرنا نئی دہلی کو ناگوار گزرا۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب 2024 میں شیخ حسینہ کی قیادت والی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ دور سے گزر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یونس مسلسل ہندوستان کی علاقائی حساسیت کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے مارچ 2025 میں چین کے دورے کے دوران یونس نے ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں کو 'لینڈ لاکڈ ' بتاتے ہوئے بنگلہ دیش کو ان کا سمندر تک واحد راستہ قرار دیا تھا۔ اس بیان پر ہندوستان میں سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے اسے قابل اعتراض اور قابل مذمت قرار دیا تھا۔ یونس کے بیانات کے بعد اپریل 2025 میں ہندوستان نے بنگلہ دیش کو دی گئی ٹرانس شپمنٹ سہولت واپس لے لی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے واضح کہا تھا کہ یہ فیصلہ ہندوستان کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر بڑھتے دبا اور لاجسٹک بے ترتیبیوں کی وجہ سے لیا گیا۔ اسی دوران بنگلہ دیش کے اندر حالات مسلسل خراب ہوتے گئے۔ جولائی 2024 کی تحریک کے بعد ملک میں تشدد، جرائم، ہجوم کے ہاتھوں قتل اور اقلیتوں خصوصاً ہندوؤں پر حملوں میں اضافہ ہوا۔ خواتین کے خلاف جرائم بھی بڑھے ہیں۔ یونس حکومت نے قانون و نظم بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ایک سال سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود حالات قابو میں نہیں آ سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یونس کا دور نہ صرف اندرونی عدم استحکام بلکہ علاقائی سفارت کاری میں بھی ناکامی کی علامت بن گیا ہے۔ جہاں ایک طرف ملک میں اسلامی انتہا پسندی اور بدامنی بڑھ رہی ہے، وہیں دوسری طرف ہمسایہ ممالک کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ بیانات بنگلہ دیش کو مزید تنہا کر سکتے ہیں۔