بیجنگ:چین کے صدر اور کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ شی جن پنگ نے ملک کی فوج پیپلز لبریشن آرمی کے دو سب سے سینئر جنرلز کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ چین کے وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ ژانگ یوشیا اور لیو زن لی کو “سنگین انتظامی خلاف ورزیوں” کے الزامات کے تحت عہدے سے ہٹا کر تفتیش کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔
یہ جنرل کون تھے؟
ژانگ یوشیا اکتوبر 2022 سے پی ایل اے کے سب سے سینئر جنرل تھے۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ پالیسی سازی ادارے پولٹ بیورو کے رکن اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب صدر بھی تھے۔ لیو زن لی پی ایل اے کی زمینی فوج کے سابق کمانڈر اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے جوائنٹ اسٹاف ڈپارٹمنٹ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ دونوں کو شی جن پنگ کا قریبی اور قابل اعتماد مانا جاتا تھا۔ ژانگ اور شی کے خاندانوں کے تعلقات 1930 کی دہائی سے چلے آ رہے تھے۔
دونوں جنرلز حال ہی تک عوامی تقریبات میں دکھائی دے رہے تھے۔ کسی بڑے اشارے یا انتباہ کے بغیر انہیں ہٹا دیا گیا۔ 2024 سے اب تک سینٹرل ملٹری کمیشن کے تین دیگر اراکین بھی ہٹا ئے جا چکے ہیں، لیکن ان کی جگہ کسی کو مقرر نہیں کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دو امکانات سب سے زیادہ مضبوط ہیں – براہِ راست بدعنوانی میں ملوث ہونا یعنی فوجی تقرریوں اور ہتھیاروں کی خریداری میں رشوت۔ ان کے دور میں ہونے والی بدعنوانی کے لیے انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ایک حیران کن انکشاف میں وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ ژانگ پر چین کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات امریکہ کو دینے جیسے سنگین الزامات بھی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ شی جن پنگ کی ذاتی طاقت نہ تو کم ہوئی ہے اور نہ مضبوط۔ فی الحال کوئی ایسا رہنما نظر نہیں آتا جو انہیں چیلنج دے سکے۔ یہ قدم پی ایل اے میں “ثقافتی تبدیلی” کے آغاز کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ فوجی قیادت میں ہلچل سے شی کا فوج پر اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔ اس سے تائیوان پر ممکنہ حملے کے امکانات عارضی طور پر کم ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا جلدبازی ہوگی کہ چین کی فوجی صلاحیت کمزور یا مضبوط ہوئی ہے۔ شی جن پنگ پہلے ہی بدعنوانی کو “اہم جدوجہد” قرار دے چکے ہیں اور واضح کر دیا ہے کہ بدعنوان عناصر کے لیے کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔