National News

مسلمانوں کو گالی دینے سے بھارت ہندو راشٹر نہیں بنے گا، خود کو سدھاریں ہندو، دھیرندر شاستری کی دو ٹوک ، ویڈیو دیکھیں

مسلمانوں کو گالی دینے سے بھارت ہندو راشٹر نہیں بنے گا، خود کو سدھاریں ہندو، دھیرندر شاستری کی دو ٹوک ، ویڈیو دیکھیں

باندا: اتر پردیش کے ضلع باندا میں باگیشور دھام کے پیٹھادھیشور پنڈت دھیرندر کرشن شاستری کا ایک روزہ دورہ خاصی بحث کا موضوع بنا رہا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر اسمبلی حلقے کے رکن پرکاش دویدی کی دعوت پر وہ خورہنڈ پہنچے۔ یہاں رکنِ اسمبلی کی رہائش گاہ پر ایک مذہبی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ پروگرام کے دوران پنڈت دھیرندر کرشن شاستری نے ہندو سماج کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کسی دوسرے مذہب کو گالی دینے سے بھارت ہندو راشٹر نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے ہندوؤں کو سب سے پہلے اپنی سماجی برائیوں کو سدھارنا ہوگا ۔
جب تک سماج اپنی کمزوریوں کو نہیں سدھارے گا۔۔۔
پنڈت دھیرندر کرشن شاستری نے کہا کہ جب تک سماج اپنی کمزوریوں کو درست نہیں کرے گا، اس وقت تک ملک صحیح سمت میں آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ ہندو راشٹر کے تصور کو حقیقت بنانے کے لیے خود احتسابی ضروری ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سماج میں امن قائم رکھنے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب اور سماجوں کی اپنی اپنی روایات اور اصول ہوتے ہیں۔ کسی مذہب کا نام لیے بغیر انہوں نے طلاق کے طریقہ کار کی مثال دی اور وضاحت کی کہ ہر سماج میں قانون مختلف انداز سے کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی کی اچھائی یا برائی کا سوال نہیں ہے بلکہ سب کو قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم قوانین کے دائرے میں رہو گے تو فائدے میں رہو گے، ورنہ مشکلات بڑھیں گی۔

بھگوان پر مکمل یقین رکھنے کی تلقین
مذہب اور عقیدے پر گفتگو کرتے ہوئے پنڈت دھیرندر شاستری نے کہا کہ بھگوان پر پورا بھروسہ ہونا چاہیے۔ آدھا یقین رکھ کر پھر شکایت کرنا غلط ہے۔ سچے دل سے یقین رکھنے والے شخص کا بھروسہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کام لوگوں تک پہنچنا ہے، لیکن بگڑی سنوارنا بھگوان  کا کام ہے۔ انسان کو ہر چیز بھگوان پر چھوڑ دینی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھگوان سے چیزیں مانگنے کے بجائے بھگوان کو ہی مانگنا چاہیے۔
 



Comments


Scroll to Top