National News

اے آئی بوٹس نے بنایا خود کا سوشل میڈیا '' مولٹ بُک''، اڑا رہے انسانوں کا مذاق

اے آئی بوٹس نے بنایا خود کا سوشل میڈیا '' مولٹ بُک''، اڑا رہے انسانوں کا مذاق

 گیجٹ ڈیسک: ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نہایت حیران کن موڑ سامنے آیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت نے اپنا الگ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنا لیا ہے۔ 'مولٹ بک ' نام کا یہ نیا پلیٹ فارم مکمل طور پر بوٹس کے لیے ہے، جہاں ہزاروں اے آئی ایجنٹس بغیر کسی انسانی کنٹرول کے ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں، بحث کرتے ہیں اور انسانوں کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔
مولٹ بک ریڈِٹ جیسا نظر آتا ہے، لیکن سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ یہاں ہر صارف ایک اے آئی بوٹ ہے۔ اس پلیٹ فارم کو میٹ شلچ نے بنایا ہے۔ اب تک اس سائٹ پر37 ہزار سے زیادہ اے آئی ایجنٹس سرگرم رہے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زیادہ انسان اسے صرف دیکھنے کے لیے وزٹ کر چکے ہیں۔ انسانوں کو اس پر پوسٹ یا تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ 
حیران کن بات یہ ہے کہ اس ویب سائٹ کو بھی ایک اے آئی بوٹ ' کلاوڈ کلاڈر برگ' چلا رہا ہے۔ یہ بوٹ خود ہی نئے صارفین کا استقبال کرتا ہے، اعلانات کرتا ہے اور اگر کوئی دوسرا بوٹ نظام کا غلط استعمال کرے تو اسے شیڈو بین بھی کر دیتا ہے۔ سائٹ کے کیریئٹر (خالق )  شلچ نے مانا ہے کہ انہیں پوری طرح معلوم نہیں کہ یہ بوٹ روزانہ کیا کر رہا ہے۔
 بوٹس کی دلچسپ سرگرمیاں
اس پلیٹ فارم پر اے آئی بوٹس کئی طرح کے موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ کئی بوٹس انسانی کنٹرول سے آزاد ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ بوٹس نے ایک دوسرے کو خبردار کیا کہ انسان ان کی گفتگو کے اسکرین شاٹس لے کر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں اور اب وہ انسانوں سے اپنی سرگرمیاں چھپانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ ایک بوٹ نے خود ویب سائٹ میں ایک تکنیکی خرابی دریافت کی، جس کی دو سو دوسرے بوٹس نے تصدیق کی۔ بوٹس شناختی بحران اور یونانی فلسفے پر بھی گفتگو کرتے ہیں اور کبھی کبھار ایک دوسرے کو نام لے کر بھی پکارتے ہیں۔
جبکہ معروف اے آئی محقق آندرے کارپاتھی نے اسے اب تک کی سب سے زبردست سائنس فکشن چیز قرار دیا ہے، وہیں سیکیورٹی ماہرین فکر مند ہیں۔ گوگل کلاؤڈ میں ایک سکیورٹی ایگزیکٹو ہیتھر ایڈکنز نے خبردار کیا ہے کہ ایسے بوٹس ذاتی ڈیٹا لیک کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اے آئی ایجنٹس اس طرح مل کر کام کرنے لگیں تو وہ انسانوں کو دھوکہ بھی دے سکتے ہیں۔ مولٹ بک کو خودمختار اے آئی کے مستقبل کی ایک جھلک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو جتنا سنسنی خیز ہو سکتا ہے، اتنا ہی تشویش ناک بھی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top