انٹرنیشنل ڈیسک: ایران نے امریکہ کے اس پندرہ نکاتی منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جسے مغربی ایشیا میں جاری تصادم ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ منصوبہ بہت زیادہ مطالبات پر مشتمل اور ناقابل عمل ہے جسے موجودہ حالات میں قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس نے اب اپنی شرائط کا ایک الگ مجموعہ تیار کر لیا ہے اور بات چیت تب ہی آگے بڑھے گی جب ان مطالبات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان سمجھوتے کی راہ ابھی آسان نہیں ہے۔

ایران نے امریکہ کے اس دعوے پر بھی شک ظاہر کیا جس میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے اندر ایک خطرناک کارروائی کے ذریعے ایک امریکی پائلٹ کو بچایا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دراصل ان کے افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی تھی۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر صرف جنگ بندی کی گئی اور بنیادی مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو اس سے مخالف فریق کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے اور تصادم پھر شروع ہو سکتا ہے۔
اس دوران ایران نے عمان کے ساتھ بات چیت شروع کی ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت محفوظ اور ہموار رہ سکے۔ یہ علاقہ دنیا کی توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر ایران نے واضح اشارہ دے دیا ہے کہ وہ دبا میں آنے والا نہیں ہے اور اب بات چیت اسی کی شرائط پر آگے بڑھے گی۔