انٹر نیشنل ڈیسک: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے اگلے اعلیٰ رہنما کے انتخاب کے عمل میں انہیں شامل کیا جانا چاہیے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے مسلسل جاری ہیں اور ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی علاقے میں اسرائیل اور امریکی ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملوں میں مارے گئے آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقام پر ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا اعلیٰ رہنما کے طور پر انتخاب "ناقابل قبول ہوگا۔ امریکی خبری ویب سائٹ 'Axios' سے بات چیت کے دوران کی گئی ٹرمپ کی یہ رائے سوال کھڑا کرتی ہے کہ آیا امریکہ اور اسرائیل ایران کے اس اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں یا صرف اس کی پالیسیوں میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
یہ تنازعہ غیر معینہ مدت کے لیے طویل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس جنگ کا اثر مغربی ایشیا اور اس کے باہر کے 14 ممالک پر پڑا ہے۔ آذربائیجان نے ایران پر ڈرون حملے کرنے کا جمعرات کو الزام لگایا تھا جسے تہران نے مسترد کر دیا۔ ایران نے جمعرات صبح اسرائیل اور امریکہ کے کئی اڈوں پر نئے سرے سے حملے کیے اور دھمکی دی کہ ہند مہاسگر میں ایران کے ایک جنگی جہاز کو ٹارپیڈو کے حملے سے ڈبونے کے لیے امریکہ کو بہت پچھتانا پڑے گا۔
ایران کے حامی حزب اللہ کے لڑاکوو¿ں کے ساتھ تصادم بڑھنے کے درمیان اسرائیل نے خبردار کیا اور بیروت کے جنوبی مضافات کے لیے بڑے پیمانے پر انخلا کا مشورہ دیا۔ اقوام متحدہ کے امن فوجیوں نے اسرائیلی فوجیوں کی مزید ٹکڑیاں سرحد پار کرنے کے درمیان جنوبی لبنان میں زمینی لڑائی کی اطلاع دی۔ اس دوران، پورے ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔
انہوں نے ایران کی عسکری صلاحیت، قیادت اور جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے جوابی حملے کرتے ہوئے عرب میں اپنے پڑوسیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے سبب تیل کی فراہمی متاثر ہو گئی ہے اور عالمی ہوائی سفر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ متعلقہ ممالک کے حکام کے مطابق، اس جنگ میں ایران میں کم از کم 1,230 افراد، لبنان میں 120 سے زیادہ افراد اور اسرائیل میں تقریباً ایک درجن افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حملوں میں چھ امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔