National News

ایران کا دعویٰ: امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث شہریوں پر منڈلانے لگا موت کا سایہ

ایران کا دعویٰ: امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث شہریوں پر منڈلانے لگا موت کا سایہ

انٹرنیشنل ڈیسک: نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ کے دوران ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ امیر سعید ایروانی، جو کہ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندہ ہیں، نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملوں کی وجہ سے ایران میں عام شہریوں کے لیے حالات انتہائی خطرناک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی یہ فوجی کارروائی بغیر کسی اشتعال کے کی گئی اور اس سے ملک کے کئی بڑے شہروں میں بھاری تباہی ہوئی ہے۔
ایران کے سفیر نے الزام لگایا کہ حملے صرف فوجی ٹھکانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ شہری علاقوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جن شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہاں لاکھوں لوگ رہتے ہیں اور بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین بھی موجود ہیں۔ ایران کی امدادی ایجنسی ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق ان حملوں میں اب تک 1,332 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی بتائی جا رہی ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں کھیل کی سہولیات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ فارس صوبہ کے لامیرد میں ایک اسپورٹس ہال پر میزائل گرنے سے خواتین والی بال کھلاڑیوں کی ٹریننگ کے دوران 18 کھلاڑیوں کی موت اور تقریباً 100 افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔اس کے علاوہ تہران کے مشہور آزادی اسٹیڈیم اور بعثت اسپورٹس کمپلیکس کو بھی نقصان پہنچنے کی بات کہی گئی ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں جنوبی ایران کے میناب شہر میں ایک لڑکیوں کے پرائمری سکول پر حملہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جس میں 165 طلباءکی موت ہوئی۔ اس کے علاوہ تہران اور اہواز کے بڑے ہسپتالوں پر بھی حملے ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی علاقائی ٹھکانوں پر سیکڑوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ ایران کے سفیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ فوری اجتماعی قدم اٹھا کر اس فوجی مہم کو روکا جائے۔



Comments


Scroll to Top