Latest News

ایٹمی ایمر جنسی کے خوف میں خلیجی ممالک، چندی گڑھ کی دوا ساز کمپنی سے 1 کروڑ کیپسول کی پیداوار سے متعلق پوچھا، جانئے کون سی ہے ایٹمی ریڈیئیشن سے راحت دینے والی دوا

ایٹمی ایمر جنسی کے خوف میں خلیجی ممالک، چندی گڑھ کی دوا ساز کمپنی سے 1 کروڑ کیپسول کی پیداوار سے متعلق پوچھا، جانئے کون سی ہے ایٹمی ریڈیئیشن سے راحت دینے والی دوا

انٹر نیشنل ڈیسک:  ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تنازع پوری دنیا کی دھڑکنیں تیز کر رہا ہے۔ جنگ کا میدان چاہے سرحدوں پر ہو، لیکن اس کا سب سے بھیانک سایہ ان خلیجی ممالک پر پڑ رہا ہے جو ایٹمی حملے کے خوف میں جی رہے ہیں۔ اس غیر مرئی خطرے (ریڈیئیشن)سے نمٹنے کے لیے اب دنیا کی نظریںہندوستان کی طبی طاقت پر ٹکی ہیں۔
بحرین کی ایک دوا سازی کمپنی نے ایٹمی ہنگامی صورتحال میں کام آنے والی دواؤں کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس دوا کا نام ہے- پرشین بلیو کیپسول اور پوٹاشیم آئیوڈائیڈ، آئیے اس کے بارے میں جانتے ہیں۔
در اصل ، بحرین کی ایک بڑی دوا سازی کمپنی 'لائیجینک ایجنٹ' نے  ہندوستان سے رابطہ کر کے ان خاص دواؤں کی مانگ کی ہے، جو جوہری تباہی کے بعد انسانی جسم کے لیے حفاظتی کردار ادا کرتی ہیں۔ بحرین کی فارماسوٹیکل رابطہ کمپنی نے چندی گڑھ میں واقع ایک دوا ساز کمپنی سے ان کیپسول کی پیداوار کے بارے میں پوچھ گچھ کی ہے۔ چندی گڑھ کی کمپنی سے پوچھا گیا ہے کہ کیا اس کے پاس تقریباً ایک کروڑ کیپسول بنانے کی صلاحیت ہے اور مختلف عمر کے لوگوں کے لیے کتنی خوراک کی ضرورت ہوگی۔
 پرشین بلیو: جسم سے زہر نکالنے والا 'بلیو میجک' 
بحرین نے ہندوستان سے تقریبا ایک کروڑ 'پرشین بلیو' کیپسول (Prussian Blue Capsule) کی دستیابی کے بارے میں پوچھ گچھ کی ہے۔ یہ کوئی عام دوا نہیں ہے، بلکہ ڈی آر ڈی او (DRDO) کی ٹیکنالوجی سے تیار شدہ ایک فارمولا ہے جو تابکاری والے فضلہ کو جسم سے باہر نکال دیتا ہے۔
 یہ دوا کیسے کام کرتی ہے: 
جب کوئی شخص جوہری شعاعوں کے اثر میں آتا ہے، تو اس کے جسم میں سیزیم-137 اور تھیلیم جیسے خطرناک عناصر جمع ہو جاتے ہیں۔ 'پرشین بلیو' (Prussian Blue Capsule) جسے ریڈیوگارڈ بھی کہتے ہیں، آنتوں میں جا کر ان زہریلے عناصر کو جکڑ لیتا ہے اور انہیں خون میں گھلنے سے پہلے ہی فضلہ کے ذریعے جسم سے خارج کر دیتا ہے۔ یہ دوا ایف ڈی اے سے منظور شدہ ہے اور حال ہی میں ہندوستان نے اس کی سپلائی انڈونیشیا بھی بھیجی تھی۔
 پوٹاشیم آئیوڈائیڈ: تھائرائڈ کا محافظ 
جوہری ہنگامی صورتحال کے لیے دوسری سب سے ضروری چیز 'پوٹاشیم آئیوڈائیڈ  ( Potassium iodide ) ہے۔ بحرین نے اس کی بھی تقریبا ڈیڑھ کروڑ گولیوں کی دستیابی چیک کی ہے۔ ہوا میں پھیلنے والے ریڈیو ایکٹیو آئیوڈین کا سب سے زیادہ اثر گلے کی تھائرائڈ گلٹی پر پڑتا ہے، جس سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی خوراک تھائرائڈ کو 'فل' کر دیتی ہے، جس سے یہ زہریلے آئیوڈین کو جذب نہیں کرتا۔ یہ ایک طرح سے جسم کے حساس اعضا پر تالہ لگانے جیسا کام کرتا ہے تاکہ ریڈیئیشن اندر نہ جا سکے۔ 
کیا ہندوستان خلیجی ممالک کا 'سنجیونی مرکز' بنے گا؟
اگر یہ معاہدہ حتمی ہو جاتا ہے، تو ہندوستان سے یہ دوائیں بحرین کے راستے قطر، کویت اور اردن تک پہنچیں گی۔ پچھلے سال بھی جب ایران-اسرائیل تنازع بڑھا تھا، تو ان دواؤں کی بات ہوئی تھی، لیکن معاملہ ٹھہرا رہا۔ اب جوہری جنگ کی بازگشت نے خلیجی ممالک کو دوبارہ دواؤں کا ذخیرہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
 احتیاط کی بات: 
یہ دونوں دوائیں صرف جوہری حملے یا شدید ریڈیئیشن کی صورت میں کام آتی ہیں۔ انہیں بغیر طبی مشورے کے لینا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ غلط استعمال جسم کے نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ فی الحال، ہندوستان کی یہ 'طبی ڈھال' عالمی امن اور سلامتی کے نقطہ نظر سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top