National News

امریکی پارلیمنٹ میں پھر گونجا 1971کاکالا سچ: سینیٹر نے پاکستانی فوج کی کھولی پولی،کہا- بنگالی ہندووں پر مظالم کو نسل کشی قرار دیا جائے

امریکی پارلیمنٹ میں پھر گونجا 1971کاکالا سچ: سینیٹر نے پاکستانی فوج کی کھولی پولی،کہا- بنگالی ہندووں پر مظالم کو نسل کشی قرار دیا جائے

واشنگٹن: امریکہ کی ریاست اوہائیو سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس گریگ لینڈزمین نے امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایک اہم قرارداد پیش کی ہے۔ اس میں1971میں بنگالی ہندووں کے خلاف ہونے والے مظالم کو نسل کشی اور جنگی جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ25مارچ 1971 کو شیخ مجیب الرحمٰن کی گرفتاری کے بعد پاکستانی فوج نے آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا۔ اس کارروائی کے تحت مشرقی پاکستان یعنی آج کے بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر تشدد اور دباوڈالا گیا۔
قرارداد کے مطابق پاکستانی فوج نے جماعت اسلامی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مل کر عام شہریوں خاص طور پر بنگالی ہندووں کو نشانہ بنایا۔ اس میں ہزاروں افراد کے قتل خواتین کے ساتھ زیادتی جبری مذہب تبدیلی اور بے گھر کرنے جیسے واقعات شامل تھے۔ اس قرارداد میں آرچر بلڈ کے تاریخی بلڈ ٹیلی گرام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔28 مارچ 1971 کو بھیجے گئے اس پیغام میں انہوں نے ان واقعات کو چنی ہوئی نسل کشی قرار دیا تھا اور امریکی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھایا تھا۔ بعد میں چھ اپریل کو بھیجے گئے ایک اور پیغام پر ڈھاکہ میں موجود امریکی قونصل خانے کے بیس افسروں نے دستخط کیے تھے۔

قرارداد میں امریکی پارلیمنٹ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ 1971 میں ہونے والے ان مظالم کی سخت مذمت کرے اور انہیں انسانیت کے خلاف جرم مانے۔ ساتھ ہی امریکی صدر سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ ان واقعات کو سرکاری طور پر نسل کشی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی برادری کو اس کے چند افراد کے جرائم کی بنیاد پر قصوروار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے لیکن متاثرین کو انصاف ملنا ضروری ہے۔



Comments


Scroll to Top