واشنگٹن: امریکہ کے ایوان نمائندگان نے تائیوان کے معاملے پر چین کے خلاف ایک اہم اور سخت بل منظور کیا ہے۔ اس بل کے تحت اگر چین تائیوان کی سلامتی کے لیے فوری خطرہ بنتا ہے تو امریکہ اسے جی20 سمیت اہم بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے باہر کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ بل اوکلاہوما سے ریپبلکن رکن کانگریس فرینک ڈی لوکاس نے پیش کیا تھا، جسے پروٹیکٹ تائیوان ایکٹ (PROTECT Taiwan Act) نام دیا گیا ہے۔ اس قانون کے مطابق اگر امریکی صدر کانگریس کو یہ اطلاع دیتے ہیں کہ چین تائیوان کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے تو امریکہ چین کے نمائندوں کو کئی عالمی اداروں سے ہٹانے کی پہل کرے گا۔
کن اداروں سے چین کو نکالا جا سکتا ہے
اس بل میں جن اداروں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں شامل ہیں۔
جی ٹوئنٹی گروپ ( G20 Group )۔
فنانشل اسٹیبلٹی بورڈ (Financial Stability Board)
باسل کمیٹی آن بینکنگ سپرویژن (Basel Committee on Banking Supervision)
امریکی ارکان کا سخت پیغام
بل پر بحث کے دوران رکن کانگریس فرینک لوکاس نے کہا کہ اگر چین تائیوان پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ کا جواب صرف فوجی نہیں بلکہ معاشی اور سفارتی طور پر بھی انتہائی سخت ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی اداروں سے بائیکاٹ اس کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ ہاؤس فنانشل سروسز کمیٹی کے چیئرمین فرنچ ہل نے بھی اس بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون چین کو صاف پیغام دیتا ہے کہ تائیوان کے خلاف جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔
سیمی کنڈکٹر کی وجہ سے بھی تائیوان اہم
بل کے حامیوں نے عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت میں تائیوان کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔ دنیا کے تقریبا 90 فیصد جدید ترین سیمی کنڈکٹر چپس تائیوان کی کمپنی ٹی ایس ایم سی بناتی ہے، جو ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ چین تائیوان تنازع میں چین تائیوان کو اپنا حصہ مانتا ہے اور اسے سرزمین چین میں شامل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال سے بھی انکار نہیں کرتا۔
دوسری طرف امریکہ تائیوان کو باضابطہ تسلیم نہیں کرتا، لیکن تائیوان ریلیشنز ایکٹ کے تحت وہ اس کا سب سے بڑا سلامتی شراکت دار ہے۔ اب یہ بل امریکی سینیٹ کے پاس بھیجا گیا ہے، جہاں سے منظوری ملنے کے بعد یہ قانون بن سکتا ہے۔