Latest News

آئی آر جی سی کا دعویٰ: ایرانی حملے کے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز پیچھے ہٹ گیا ، 650 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی

آئی آر جی سی کا دعویٰ: ایرانی حملے کے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز پیچھے ہٹ گیا ، 650 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کی اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کور (IRGC ) نے منگل کو دعوی کیا کہ اس کی جوابی فوجی کارروائی ' ٹرو پرومس 4 '  (سچا وعدہ چار )کے پہلے دو دنوں میں امریکی فوج کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ ایران کے مطابق ان دو دنوں میں 650  سے زیادہ امریکی فوجی مارے گئے یا زخمی ہوئے ہیں۔
اسلامی انقلابی گارڈ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نینی نے کہا کہ ایران نے خلیج فارس کے علاقے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور جنگی جہازوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ ان کا دعوی ہے کہ ان حملوں کے باعث امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو ایرانی ساحل سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
پہلے دو دنوں میں بھاری نقصان کا دعوی
ترجمان کے مطابق ایرانی فوج نے درست حملوں کے ذریعے امریکی اڈوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ جنرل نینی نے کہا کہ جنگ کے پہلے دو دنوں میں 650  امریکی فوجی مارے گئے یا زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ امریکہ ان ہلاکتوں اور زخمیوں کی معلومات کو چھپانے یا کم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایرانی خفیہ ذرائع اور میدان جنگ کی اطلاعات اس تعداد کی تصدیق کرتی ہیں۔
بحرین میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے پر حملہ
ایران نے دعوی کیا کہ اس کے میزائلوں اور ڈرون نے بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے صدر دفتر کو کئی مرتبہ نشانہ بنایا۔ ایرانی بیان کے مطابق بحرین میں ایک اہم امریکی فوجی اڈے پر حملے میں تقریباً  160  امریکی فوجی مارے گئے یا زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ امریکی بحریہ کے ایک جنگی معاون جہاز کو بھی ایرانی بحری میزائلوں سے نقصان پہنچا ہے۔
طیارہ بردار جہاز کو پیچھے ہٹانے کا دعویٰ
اسلامی انقلابی گارڈ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایرانی بحریہ نے چاہ بہار کے ساحل سے تقریبا ً250   سے 300  کلومیٹر دور تعینات ابراہام لنکن پر چار کروز میزائل داغے۔ ایران کا دعوی ہے کہ ان حملوں کے بعد طیارہ بردار جہاز کو جنوب مشرقی بحر ہند کی جانب ہٹنا پڑا۔
ایران نے واضح کیا کہ سچا وعدہ چار کارروائی کے تحت وہ اپنی مکمل فوجی صلاحیت استعمال کر رہا ہے۔ تاہم ان دعوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان حالات نہایت سنگین بتائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورت حال مزید بگڑتی ہے تو اس کا اثر عالمی سلامتی اور تیل کی فراہمی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top