National News

امریکہ کو بڑا جھٹکا: ایران کی دھمکی کے بعد پیچھے ہٹ گیا امریکی جنگی بیڑا

امریکہ کو بڑا جھٹکا: ایران کی دھمکی کے بعد پیچھے ہٹ گیا امریکی جنگی بیڑا

واشنگٹن: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایران کی سخت وارننگ کے بعد ایک امریکی جنگی بیڑے کو آبنائے ہرمز سے واپس مڑنا پڑا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ اس اہم سمندری راستے کو کھولنے کے عمل کا آغاز کر چکا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق، ایرانی فوج نے امریکی جہاز کو واضح وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا تو اس پر 30 منٹ کے اندر حملہ کر دیا جائے گا۔ سینئر فوجی حکام نے بتایا کہ اس سخت وارننگ کے فوراً بعد امریکی بحری جہاز واپس چلا گیا۔ ایرانی میڈیا کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اس راستے پر اب بھی ایران کی گرفت مضبوط ہے۔
اس واقعے سے کچھ دیر پہلے ہی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ امریکہ اس آبی راستے کو صاف کر رہا ہے تاکہ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور جرمنی جیسے ممالک کو فائدہ ہو سکے۔ ٹرمپ نے ان ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود یہ کام کرنے کی ہمت نہیں دکھا پا رہے۔ تاہم، امریکی جہاز کے پیچھے ہٹنے سے ٹرمپ کے ان دعوو¿ں اور امریکی حکمت عملی پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ یہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاو¿ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے براہ راست اثر کے طور پر امریکہ میں مہنگائی کی شرح چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
دوسری جانب، اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات بھی شروع ہو گئے ہیں۔ اس ملاقات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شریک ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہی ایران کی سب سے بڑی طاقت ہے، جس کی وجہ سے وہ مذاکرات کی میز پر امریکہ پر دباو¿ ڈال رہا ہے۔



Comments


Scroll to Top