واشنگٹن/ جنیوا: امریکہ باضابطہ طور پر عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او سے الگ ہو گیا ہے۔ امریکی محکمہ صحت اور محکمہ خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اب اس ادارے کا رکن نہیں رہا۔ اس تاریخی فیصلے کی علامت کے طور پر سوئٹزرلینڈ کے جنیوا میں واقع ڈبلیو ایچ او کے مرکزی دفتر کے باہر سے امریکی پرچم بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ بڑا فیصلہ کیوں لیا گیا۔
امریکہ کے مطابق یہ قدم کووڈ19 وبا کے انتظام میں اقوام متحدہ کے اس صحت ادارے کی ناکامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کو دیے جانے والے تمام سرکاری وسائل اور فنڈنگ پر پابندی لگا دی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس ادارے کے باعث ملک کو پہلے ہی کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
اب آگے کیا ہوگا۔
امریکہ نے صاف کر دیا ہے کہ اس کا مستقبل میں اس ادارے میں دوبارہ شامل ہونے یا بطور مبصر کام کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اب امریکہ بیماریوں کی نگرانی اور دیگر عوامی صحت کی خدمات کے لیے کسی بین الاقوامی ادارے پر انحصار کرنے کے بجائے دوسرے ممالک کے ساتھ براہ راست مل کر کام کرے گا۔
26 کروڑ ڈالر کے بقایاجات پر تنازع۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق امریکہ پر صرف سال 2024 اور 2025 کے بقایا واجبات کے طور پر 26 کروڑ ڈالر یعنی تقریباً 2,100 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام پہلے ہی بہت زیادہ ادائیگی کر چکے ہیں اور باہر نکلنے کے لیے ایسی کوئی قانونی شرط موجود نہیں ہے۔ دوسری جانب قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ امریکی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔