National News

بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر لگی پابندی، اس ملک نے اٹھایا ''تاریخی قدم

بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر لگی پابندی، اس ملک نے اٹھایا ''تاریخی قدم

انٹرنیشنل ڈیسک:بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو یقینی بنانے کے لیے فرانس کی حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔فرانس کی نیشنل اسمبلی نے ایک اہم بل پاس کیا ہے، جس کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔آسٹریلیا کے بعد ایسا کرنے والا فرانس دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے۔صدر ایمانوئل میکرون نے اسے بچوں اور نوجوانوں کی حفاظت کے لیے ایک بڑا اقدام قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارے بچوں کے جذبات اور ان کی توجہ کو کسی غیر ملکی الگوردم یا ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تجارتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ فیصلہ بچوں میں بڑھتے ہوئے اسکرین ٹائم، ذہنی صحت کے خطرات، سائبر بلیئنگ اور منفی غیر ملکی اثرات کو روکنے کے لیے لیا گیا ہے۔یہ پابندی ستمبر 2026 کے اسکولی سیشن سے نافذ ہونے کی توقع ہے۔سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ 31 دسمبر 2026 تک وہ تمام اکاونٹس بند کر دیں جو مقررہ عمر کی شرط کو پورا نہیں کرتے۔اس نئے قانون کے ساتھ ہی ہائی اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر بھی مکمل پابندی لگائی جائے گی، تاکہ طلباءکی توجہ تعلیم کی طرف مرکوز رہے۔یہ پابندی صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگی، جبکہ تعلیمی پلیٹ فارمز اور آن لائن انسائیکلوپیڈیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔سابق وزیر اعظم گیبریئل اٹل کے مطابق، یہ قانون بچوں کے دماغوں پر ہونے والے ڈیجیٹل حملوں کو روکنے اور ملک کی خودمختاری کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔



Comments


Scroll to Top