نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریند مودی پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیسہ خرچ کر کے جو شبیہ بنائی گئی تھی وہ اب خراب ہو رہی ہے، اسی خوف کے باعث مودی نے ہند–امریکہ تجارتی معاہدے اور دیگر معاملات میں ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کر لیا ہے مسٹر راہل گاندھی نے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاو¿س کے احاطے میں پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر کانگریس اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ وزیر اعظم نے ہندوستان کے مفادات سے سمجھوتہ کر کے ملک کو بیچ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”میں تین باتیں کہنا چاہتا ہوں لیکن بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی گھبرائے ہوئے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ چار ماہ سے رکا ہوا تھا۔ اس بارے میں جو کچھ میں جانتا ہوں وہ وزیر اعظم بھی جانتے ہیں۔ کل شام وزیر اعظم نے ہندوستان–امریکہ تجارتی معاہدے پر دستخط کیے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے امیج کا جو غبارہ ہزاروں کروڑ روپے دے کر بنایا گیا تھا، وہ اب پھٹ سکتا ہے۔“
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ”مسئلہ سابق فوجی سربراہ کا نہیں ہے، یہ تو محض ایک سائڈ شو ہے۔ یہ بات میں بھی جانتا ہوں اور مودی بھی جانتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم نے ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ یہ کس نے اور کیسے کیا، اس پر ملک کی عوام کو غور کرنا چاہیے۔ لیکن تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن لیڈر کو صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بولنے نہیں دیا گیا۔ ہند–امریکہ تجارتی معاہدے میں مودی نے عوام کی محنت اور خون پسینہ بیچ دیا ہے۔ اسی لیے وہ خوف زدہ ہیں۔ جن لوگوں نے ان کی شبیہ بنائی ہے، وہی اب اسے خراب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔“
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ امریکہ میں صنعت کار اڈانی سے متعلق جو معاملہ ہے، دراصل وہ اڈانی کے خلاف نہیں بلکہ مودی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق مودی کے مالی معاونین کو نشانا بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ حقیقتاً وزیر اعظم کے خلاف ہے، کیونکہ اڈانی بھارتیہ جنتا پارٹی کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایپسٹین معاملہ ابھی پوری طرح سامنے نہیں آیا ہے اور ملک کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وزیر اعظم قومی مفادات سے سمجھوتہ کر رہے ہیں۔