نئی دہلی: کانگرس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ لوک سبھا نہیں چل رہی اور ایوان میں آتے ہی انہیں واپس لوٹنا پڑتا ہے محترمہ واڈرا نے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے دن بھر کے لیے ملتوی ہونے کے بعد پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں اپوزیشن لیڈر کو بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور ایوان کا نہ چلنا انتہائی دکھ کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ سچ کہوں تو، یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ہم لوک سبھا جاتے ہیں اور بس باہر آ جاتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کو ایک منٹ بھی بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔ یہ جمہوریت نہیں ہے۔ ہم یہاں کس لیے آتے ہیں؟ انہیں بولنے دینا چاہیے۔ وہ اپوزیشن لیڈر ہیں۔“
پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ لوک سبھا کے اسپیکر دباو میں آکر خاتون اراکینِ پارلیمنٹ کی توہین کر رہے ہیں۔ جس طرح کی وضاحت اسپیکر اوم برلا کو دینی پڑ رہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ شدید دباو میں ہیں اور اسی دباو کے تحت بیانات دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ”اسپیکر پر اتنا دباو ہے کہ انہیں خود وضاحت پیش کرنی پڑ رہی ہے، جو درست نہیں ہے۔ اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی مودی جی پر ہاتھ اٹھائے۔ ایوان میں کانگریس کی 11 خاتون اراکینِ پارلیمنٹ ہیں، جن میں سے ایک میں بھی ہوں۔ تمام خاتون ارکان سنجیدہ سیاستدان ہیں۔ اسپیکر نے ان کی توہین کی ہے۔ حکومت نے اسپیکر پر ایسا کہنے کے لیے دباوڈالا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی میں ایوان میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی اسی لیے اسپیکر سے صفائیاں دلوائی جا رہی ہیں۔