انٹرنیشنل ڈیسک:گزشتہ دنوں کینیڈا کے مانٹریال کے قریب علاقے لاسال میں پنجابی نڑاد یوٹیوبر نینسی گریوال (45) کو ان کے گھر میں ہی چاقو مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے کی جانچ جاری ہے۔ نینسی سوشل میڈیا پر اپنے خیالات، خاص طور پر خالصتان تحریک کی مخالفت کے لیے جانی جاتی تھیں۔ اس لیے ان کے قتل کے پیچھے خالصتانیوں کا ہاتھ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اب کینیڈین سیاستدان میکسم برنیئر نے بھی کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ خالصتان کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ان کا قتل کیا گیا۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کر کے اس سلسلے میں دعویٰ کیا ہے۔

برنیئر کے مطابق،کینیڈا نے انٹرنیشنل سکھ یوتھ فیڈریشن (ISYF) اور ببر خالصہ انٹرنیشنل (BKI) سمیت خالصتانی گروہوں کو دہشت گرد تنظیموں کے طور پر فہرست بند کیا ہے۔ اس تحریک کے حامیوں کا کینیڈا میں خیرمقدم نہیں ہے۔ اس لیے بڑے پیمانے پر ان کی امیگریشن ختم ہونی چاہیے، اور بڑے پیمانے پر ملک بدری شروع ہونی چاہیے۔