انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں مسلسل بڑھتے جنگی حالات کے درمیان متحدہ عرب امارات نے منگل کو اپنا فضائی علاقہ عارضی طور پر بند کر دیا۔ تاہم، یہ پابندی جلد ہی ختم کر دی گئی۔ متحدہ عرب امارات کی فوج ایران کی جانب سے داغے جانے والے ڈرون اور میزائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے اور انہی کوششوں کے دوران منگل کی صبح دبئی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد فضائی علاقہ عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی 'وام' (ڈبلیو اے ایم ) نے متحدہ عرب امارات کے شہری ہوابازی اتھارٹی کے حوالے سے بتایا کہ یہ پابندی تاہم جلد ہی ہٹا دی گئی۔
حکام نے کہا کہ ''حالات مستحکم'' ہو گئے ہیں جس کے سبب پروازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل حکام نے دبئی کے لوگوں کو میزائل حملے کی وارننگ جاری کی تھی کہ دبئی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں کیونکہ فوج حملوں کو روکنے کے لیے متحرک تھی۔ 'وام' نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ڈرون حملے کی وجہ سے فوجیرہ میں ایک تیل ٹینکر فارم میں دوبارہ آگ لگ گئی تاہم اس میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
فضائی علاقے کے بارے میں اچانک اعلان سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ یو اے ای کے حکام توازن قائم رکھتے ہوئے کام کر رہے ہیں تاکہ امارات اور اتحاد کی پروازیں جاری رہیں، جبکہ ایران مسلسل ملک کو نشانہ بنا کر حملے کر رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح ایران کے دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر حملے شروع کرنے کا اعلان کیا اور لبنان میں ایران کے حامی انتہا پسند گروہ حزب اللہ پر بھی حملے تیز کر دیے۔ اسرائیل نے ایران کی جانب سے دو حملوں کی اطلاع ملنے کے بعد ان نئے حملوں کا اعلان کیا۔