انٹرنیشنل ڈیسک:یو اے ای کی کاروباری دنیا سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو کسی فلمی کہانی جیسی سنہری لگتی ہے، جہاں ایک ملازم کی ذاتی خوشیوں کو کمپنی اپنی ذمہ داری سمجھ کر جشن منا رہی ہے۔ تصور کریں کہ آپ دفتر میں کام کر رہے ہیں اور آپ کی شادی کے تحفے کے طور پر کمپنی کی طرف سے آپ کے بینک اکاو¿نٹ میں براہِ راست 12.5 لاکھ روپے (50,000 درہم) آ جائیں۔ متحدہ عرب امارات کے بڑے کاروباری گروپ 'ال حبطور گروپ' نے اپنے اماراتی ملازمین کے لیے اس حقیقت کو زمین پر اتار دیا ہے۔
اس منفرد اقدام کے پیچھے ارب پتی صنعتکار خلیفہ ال حبطور ہیں، جنہوں نے معاشرے کی بنیادی اکائی یعنی خاندان کو مضبوط کرنے کے لیے اپنے خزانے کا منہ کھول دیا ہے۔ ان کا وژن صرف مالی مدد تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ اسے قوم سازی کے ایک اہم عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ اگر کوئی نوجوان ملازم شادی کے بندھن میں بندھتا ہے، تو اسے 50,000 درہم کی ابتدائی معاونت دی جائے گی۔ خوشی بڑھانے والی بات یہ ہے کہ اگر اگلے دو سال کے اندر اس ملازم کے گھر اولاد کی خوشی آتی ہے، تو کمپنی کی طرف سے ملنے والی یہ مالی امداد دوگنی ہو کر براہِ راست فائدہ پہنچائے گی۔
أشعر بالحزن كلما رأيت شباباً وبنات من أبناء #الإمارات تجاوزوا الثلاثين من عمرهم ولم يتزوجوا بعد.
فهؤلاء هم ثروة الوطن الحقيقية، ومستقبل هذه الأرض الطيبة التي قامت على الأسرة، وعلى القيم التي غرسها فينا الآباء والأجداد، وبدونهم لا تقوم أُسرٌ، ولا يستمرّ المجتمع الذي نعتزّ به.…
— Khalaf Ahmad Al Habtoor (@KhalafAlHabtoor) October 11, 2025
خلیفہ ال حبطور نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی اس سوچ کو دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ شادی اور بچہ پیدا کرنا صرف کسی شخص کا ذاتی انتخاب نہیں ہے، بلکہ یہ ایک صحت مند اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ دور کی مہنگائی اور کیریئر کی دوڑ میں اکثر نوجوان خاندان شروع کرنے سے ہچکچاتے ہیں، ایسے میں ایک آجر کے طور پر ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس راہ کو آسان بنائیں۔
1970 میں قائم ہونے والا ال حبطور گروپ، جو آج ہوٹل سے لے کر رئیل اسٹیٹ تک بڑے عظیم الشان منصوبوں کا مالک ہے، اب اپنی اس انسانی پہل کے ذریعے امارات کے نوجوانوں کو ایک محفوظ اور مالی طور پر مستحکم مستقبل کا یقین دلا رہا ہے۔ یہ قدم نہ صرف ملازمین کے تئیں حساسیت دکھاتا ہے، بلکہ دیگر کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال پیش کرتا ہے کہ کیسے تجارتی منافع سے آگے بڑھ کر معاشرتی استحکام میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔