واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکہ کے کنٹرول کی حمایت نہ کرنے والے ممالک کو وہ ٹیرف لگا کر سزا دے سکتے ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ کے دو جماعتی یومیہ وفد نے ٹرمپ سے ڈنمارک کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی درخواست کی ہے، جس کے بعد ٹرمپ نے یہ بات کہی۔ ٹرمپ کئی مہینوں سے گرین لینڈ پر امریکہ کے کنٹرول کی بات کہتے آ رہے ہیں، جس پر اس وقت ڈنمارک کا کنٹرول ہے۔
ٹرمپ نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ گرین لینڈ پر امریکہ کے کنٹرول کے علاوہ کچھ بھی قابل قبول نہیں ہے۔ امریکی صدر نے جمعہ کو اپنے دفتر وائٹ ہاوس میں منعقدہ ایک پروگرام میں بتایا کہ انہوں نے ادویات کے معاملے میں یورپی ممالک کو کس طرح دھمکایا تھا۔ انہوں نے کہا، میں گرین لینڈ کے لیے بھی ایسا کر سکتا ہوں۔ میں گرین لینڈ کے معاملے پر حمایت نہ دینے والے ممالک پر ٹیرف لگا سکتا ہوں۔ ہمیں قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ اس لیے میں ایسا کر سکتا ہوں۔ اس سے پہلے انہوں نے اس مسئلے پر دباو بنانے کے لیے ٹیرف لگانے کی بات نہیں کی تھی۔
امریکہ کے لیے گرین لینڈ اتنا اہم کیوں ہے۔
- گرین لینڈ صرف برف کا جزیرہ نہیں ہے بلکہ اس کی فوجی اور اسٹریٹجک اہمیت ہے۔
- یہ آرکٹک علاقے میں واقع ہے اس لیے یہاں سے روس اور چین کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
- یہ امریکہ کے میزائل ڈیفنس اور ریڈار سسٹم کے لیے بے حد اہم ہے۔
- امریکہ یہاں مستقبل کے سمندری راستے دیکھتا ہے۔
- برف پگھلنے سے نئے شپنگ روٹس کھل رہے ہیں جو عالمی تجارت کو بدل سکتے ہیں۔
- گرین لینڈ نایاب معدنیات اور وسائل کا ذخیرہ ہے۔
- اس کے ریئر ارتھ منرلز، تیل، گیس اور اسٹریٹجک دھاتوں پر امریکہ، چین اور روس کی نظر ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی۔
پہلے ٹرمپ صرف بیانات دے رہے تھے، لیکن اب انہوں نے سیدھی دھمکی دی ہے کہ اگر ممالک گرین لینڈ پر امریکہ کی حمایت نہیں کرتے تو میں ان پر ٹیرف لگا سکتا ہوں۔ میں نے ادویات کے معاملے میں یورپ کو اسی طرح جھکایا تھا۔ یعنی اب یہ صرف بیان بازی نہیں بلکہ معاشی دباو¿ اور تجارتی جنگ کی وارننگ ہے۔
ڈنمارک کا ردعمل۔
گرین لینڈ ڈنمارک کے زیر انتظام ہے۔ ڈنمارک نے صاف کر دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ نہیں بیچے گا اور وہاں نیٹو کی مستقل فوجی موجودگی بڑھائے گا۔ یہ صرف گرین لینڈ کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ امریکہ کی عالمی بالادستی کی پالیسی، آرکٹک پر کنٹرول کی لڑائی، اور مستقبل کی فوجی اور معاشی مسابقت کا مسئلہ ہے۔