واشنگٹن: دنیا بھر میں ایک بار پھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی زیر بحث ہے۔ اس بار نشانے پر امریکہ کا قریبی اتحادی کینیڈا ہے۔ ٹرمپ نے صاف انتباہ دیا ہے کہ اگر کینیڈا چین کے ساتھ کوئی بھی تجارتی معاہدہ کرتا ہے تو امریکہ کینیڈا سے آنے والی تمام مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دے گا۔ ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا یہ غلط فہمی نہ رکھے کہ وہ چینی سامان کو امریکہ بھیجنے کا راستہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں چین پر بھی سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کینیڈا کی تجارت، سماج اور طرزِ زندگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے دہرایا کہ چین کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل ہونے پر امریکہ فوری طور پر سخت اقتصادی اقدامات کرے گا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ٹرمپ نے ٹیرف کو ہتھیار بنا کر کسی ملک پر دباو ڈالنے کی کوشش کی ہو۔ اپنے حالیہ بیانات میں وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جو ممالک امریکی مفادات کے خلاف قدم اٹھائیں گے، انہیں بھاری اقتصادی قیمت چکانی پڑے گی۔ ٹرمپ کے اس بیان سے امریکہ اور کینیڈا کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ ساتھ ہی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی دھمکیاں عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔