National News

ٹرمپ کا اپنی ٹیم کو سخت حکم: جلد ختم کروایران کی جنگ، میرے پاس اور بھی بہت سے کام ہیں

ٹرمپ کا اپنی ٹیم کو سخت حکم: جلد ختم کروایران کی جنگ، میرے پاس اور بھی بہت سے کام ہیں

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بارے میں بڑا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو صاف پیغام دیا ہے کہ اس تنازع کو زیادہ لمبا نہیں کھینچا جائے گا اور اگلے چار سے چھ ہفتوں میں اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے مذاکرات کار بات چیت سے اس لیے انکار کر رہے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ان کے اپنے لوگ ہی انہیں مار ڈالیں گے۔ ٹرمپ نے اپنی ٹیم سے کہا کہ ایران کی جنگ جلد ختم کرو کیونکہ میرے پاس اور بھی بہت سے کام ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ کا ماننا ہے کہ جنگ اب اپنے آخری مرحلے میں ہے اور اسے جلد ختم کر کے وہ اپنے اندرونی سیاسی ایجنڈے خاص طور پر آنے والے انتخابات اور معاشی مسائل پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔
اگرچہ امریکی انتظامیہ اس وقت ایک بڑی الجھن میں پھنسی ہوئی ہے۔ ایک طرف سفارتی حل کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف محکمہ دفاع زیادہ سے زیادہ دباو¿ کی پالیسی پر قائم ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی بھی بڑھا دی ہے۔ امن مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے بات چیت جاری ہے لیکن اب تک کوئی ٹھوس معاہدہ نہیں ہو سکا۔ اس دوران امریکہ کے اندر بھی حکمت عملی کے بارے میں اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ رہنما بات چیت کے حق میں ہیں جبکہ کچھ سخت فوجی کارروائی اور یہاں تک کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ اس پورے تنازع کے اثرات عالمی معیشت پر بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز پر جاری کشیدگی کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے جس سے عالمی بازار میں قیمتیں بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اس امکان پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کسی معاہدے کے تحت امریکہ کو ایران کے تیل تک رسائی مل سکتی ہے تاہم اس بارے میں ابھی کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ زمینی سطح پر امریکی فوجی بھیجنے کا اختیار بھی کھلا رکھا گیا ہے لیکن ٹرمپ اس سے بچنا چاہتے ہیں کیونکہ اس سے جنگ لمبی ہو سکتی ہے۔ اب تک تقریباً 300 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں اور 13 ہلاک ہو چکے ہیں جو ان کی تشویش کی بڑی وجہ ہے۔ امریکہ کی اندرونی سیاست پر بھی اس کا اثر پڑ رہا ہے۔ بڑھتی مہنگائی اور تیل کی قیمتیں اور انتخابی دباو¿ نے ٹرمپ حکومت کے سامنے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ حالیہ سیاسی پیش رفت سے یہ واضح ہے کہ جنگ کے اثرات براہ راست انتخابی ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔ صدارتی دفتر کی طرف سے بھی سخت پیغام دیا گیا ہے کہ اگر ایران معاہدے کے لیے آگے نہیں آتا تو امریکہ پہلے سے بھی زیادہ جارحانہ قدم اٹھا سکتا ہے۔

                
 



Comments


Scroll to Top