واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مسلسل بدلتے ہوئے اور ایک دوسرے سے متضاد بیانات نے امریکہ اور عالمی سطح پر الجھن کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ ایک طرف دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ جنگ جیت رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہزاروں اضافی امریکی فوجیوں کو مشرق وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے کبھی اتحادی ممالک کو مدد نہ کرنے پر تنقید کی تو کبھی کہا کہ امریکہ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح انہوں نے ایران کو دھمکی دی کہ وہ اس کے توانائی کے ڈھانچے کو تباہ کر دیں گے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس کا امریکہ پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔
ماہرین اور سابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے متضاد بیانات جنگ کے وقت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ سابق وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا کہ جنگ کے دوران سچ سب سے پہلے نشانہ بنتا ہے اور قیادت میں واضح موقف انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی یہ ٹیڑھی میڑھی حکمت عملی جان بوجھ کر بھی ہو سکتی ہے تاکہ مخالفین کو الجھن میں ڈالا جا سکے۔
لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے اتحادی ممالک اور سرمایہ کاروں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ اس کا اثر معاشی محاذ پر بھی دکھائی دیا ہے جہاں امریکی حصص بازار نے جنگ شروع ہونے کے بعد بدترین ہفتہ ریکارڈ کیا۔ امریکی پارلیمان کانگریس میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ کئی رہنماوں نے کہا ہے کہ حکومت واضح حکمت عملی پیش نہیں کر رہی اور جنگ کی سمت کے بارے میں غیر یقینی برقرار ہے۔ تاہم وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حکمت عملی کامیاب ہے اور ایران پر دباو ڈالا جا رہا ہے تاکہ وہ مذاکرات پر مجبور ہو سکے۔