واشنگٹن: مشرق وسطی میں جاری تناؤ کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا الٹی میٹم دوہراتے ہوئے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہیں کھولا، تو منگل سے امریکہ اس کے پاور پلانٹ، پل اور دیگر اہم ڈھانچوں پر حملے شروع کر دے گا۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کو پہلے بھی وقت دیا گیا تھا، لیکن اب یہ آخری وارننگ ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ اگر ایران نہیں مانتا، تو امریکہ اور بھی بڑے اور خطرناک حملے کرے گا۔
آبنائے ہرمز دنیا کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہاں سے تقریباً بیس فیصد تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے۔ اس راستے کے بند ہونے سے پوری دنیا میں توانائی کا بحران گہرا گیا ہے اور کئی ممالک کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ ایران نے ٹرمپ کی اس دھمکی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے اسے "گھبراہٹ اور کمزوری" بتایا اور کہا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا، تو اس کا جواب بہت سخت ہوگا۔ ایران نے وارننگ دی ہے کہ وہ مشرق وسطی میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں اور اس کے اتحادی ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس نے یہ بھی کہا کہ اگر جنگ بڑھی، تو حالات اور زیادہ خطرناک ہو جائیں گے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان صورتحال انتہائی تناؤ والے ماحول میں ہے۔ ایک طرف امریکہ حملے کی تیاری کی بات کر رہا ہے، تو دوسری طرف ایران بھی جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ اگر جلد ہی کوئی سفارتی حل نہ نکلا، تو یہ ٹکرا ؤ بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کا اثر پوری دنیا پر پڑ سکتا ہے۔