Latest News

امریکی رکن پارلیمنٹ کا انتباہ: ٹرمپ کا نیٹو چھوڑنے کا منصوبہ غیر قانونی، روس - چین اٹھا لیں گے فائدہ

امریکی رکن پارلیمنٹ کا انتباہ: ٹرمپ کا نیٹو چھوڑنے کا منصوبہ غیر قانونی، روس - چین اٹھا لیں گے فائدہ

واشنگٹن: امریکہ میں نیٹو کو لے کر بڑا سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ہندوستانی نژاد امریکی رکن کانگریس راجہ کرشن مورتی نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو سخت انتباہ دیا ہے کہ اگر انہوں نے بغیر کانگریس کی منظوری کے نیٹو سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو یہ مکمل طور پر غیر قانونی ہوگا۔ یہ بیان اس وقت آیا جب ٹرمپ نے حال ہی میں نیٹو چھوڑنے پر غور کرنے کی بات کہی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کو اس فوجی اتحاد کی ضرورت نہیں ہے اور اس فیصلے کے لیے انہیں کانگریس کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ان بیانات نے واشنگٹن میں تشویش بڑھا دی ہے۔
رکن کانگریس کرشن مورتی نے ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ نیٹو سے یکطرفہ باہر نکلنا نہ صرف اسٹریٹجک طور پر غلط ہوگا بلکہ موجودہ قانون کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے واضح کہا کہ ایسا اقدام امریکہ کی قومی سلامتی کو کمزور کرے گا اور اس کے دشمنوں کو فائدہ پہنچائے گا۔ انہوں نے 2024 کے دفاعی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کوئی بھی امریکی صدر بغیر کانگریس کی منظوری کے نیٹو سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اس کے لیے یا تو سینیٹ کے دو تہائی اراکین کی رضامندی ضروری ہے یا پھر پارلیمنٹ کا خاص قانون منظور ہونا ضروری ہے۔
کرشن مورتی نے یہ بھی انتباہ دیا کہ صرف اس طرح کے بیانات دینا بھی خطرناک ہے۔ اس سے نیٹو جیسے مضبوط اتحاد کی ساکھ پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ پیچھے ہٹا تو روس اور چین جیسے ممالک اور زیادہ جارحانہ ہو سکتے ہیں۔ نیٹو یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن، 1949 میں قائم ہوا تھا اور یہ امریکہ اور یورپ کے ممالک کے درمیان ایک اہم فوجی اتحاد ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اجتماعی سلامتی ہے، یعنی کسی ایک رکن ملک پر حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔ آخر میں رکن کانگریس نے ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اپنے موقف پر دوبارہ غور کریں اور ان بین الاقوامی اتحادوں کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کریں جنہوں نے دہائیوں سے عالمی امن اور سلامتی قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top