انٹرنیشنل ڈیسک: بھارت میں امریکہ کے نامزد سفیر اور جنوبی و وسطی ایشیا کے خصوصی نمائندے سرجیو گور نے پیر کے روز امریکی سفارت خانے کے احاطے میں حلف لیا۔ اس ہفتے وہ بھارت کے صدر کو اپنی اسناد پیش کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت۔امریکہ تعلقات کے حوالے سے کئی اہم بیانات دیے۔ سرجیو گور نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان دوستی مکمل طور پر حقیقی ہے۔ انہوں نے کہا، “میں صدر ٹرمپ کے ساتھ دنیا بھر میں سفر کر چکا ہوں اور میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ ان کی دوستی سچی ہے۔ اصل دوست اختلافات رکھ سکتے ہیں، لیکن آخر میں انہیں حل کر لیتے ہیں۔
انہوں نے بھارت کو “ایک غیر معمولی قوم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد دونوں ممالک کی شراکت داری کو اگلے درجے تک لے جانا ہے۔ گور نے کہا کہ یہ دنیا کی سب سے پرانی اور سب سے بڑی جمہوریت کے درمیان میل جول ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر ٹرمپ اگلے ایک دو سال میں بھارت کے دورے پر آ سکتے ہیں۔ بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے پر بات کرتے ہوئے گور نے مانا کہ یہ ایک مشکل عمل ہے، لیکن دونوں فریق اسے حتمی شکل دینے کے لیے پ±رعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت کے علاوہ سلامتی، انسداد دہشت گردی تعاون، توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں بھی تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
اس دوران سرجیو گور نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اگلے مہینے PaxSilica میں مکمل رکن کے طور پر مدعو کیا جائے گا۔ PaxSilica امریکہ کی قیادت میں ایک اسٹریٹجک پہل ہے، جس کا مقصد محفوظ اور جدت پر مبنی سلیکان، سیمی کنڈکٹر، اے آئی اور تکنیکی سپلائی چین تیار کرنا ہے۔ اس پہل میں پہلے ہی جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور اسرائیل شامل ہو چکے ہیں۔ گور نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپناتے وقت بھارت اور امریکہ کا ساتھ ساتھ کام کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے بھارت کی عوام کو جدت پسند، بردبار اور روحانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری اس صدی کی سب سے بااثر عالمی شراکت داری بن سکتی ہے۔