Latest News

ہندوستان پر '' بے تحاشہ'' ٹیرف لگانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ٹرمپ : امریکی رکن پالیمان

ہندوستان پر '' بے تحاشہ'' ٹیرف لگانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ٹرمپ : امریکی رکن پالیمان

انٹرنیشنل ڈیسک:  امریکہ کے ایک سینئر رکنِ پارلیمان نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ روسی تیل خریدنے پر ہندوستان کے خلاف بے تحاشہ  ٹیرف لگانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں اور انہوں نے ان سے اس پالیسی کو فوراً  واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ رکنِ کانگریس بریڈ شرمن نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ صدر ٹرمپ ہندوستان  پر بے تحاشہ ٹیرف لگانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی اور مالیاتی خدمات کمیٹی کے سینئر رکن شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کا دعوی ہے کہ  ہندوستان  پر روسی تیل کی درآمد کے لیے ٹیرف لگایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہنگری روس سے اپنے خام تیل کا 90 فیصد درآمد کرتا ہے لیکن اس پر کوئی ٹیرف نہیں ہے۔ چین روس کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے، اس پر روسی تیل خریدنے سے متعلق پابندیاں نہیں لگائی گئیں، حالانکہ اس پر دیگر وجوہات کی بنا پر کارروائی کی گئی ہے۔ شرمن نے کہا کہ ہندوستان روس سے اپنے خام تیل کا صرف 21 فیصد حاصل کرتا ہے لیکن ہمارے اتحادی کو نشانہ بنایا گیا۔ صدر کو یہ پالیسی فورا تبدیل کرنی چاہیے۔
امریکہ اور ہندوستان نے اس مہینے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ ان کے درمیان تجارتی عبوری معاہدے کی شکل و صورت پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کر کے روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر لگائے گئے 25 فیصد تعزیری ٹیرف ہٹا دیے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ہندوستان کے اس عزم کا ذکر کیا کہ وہ روس سے براہِ راست یا بالواسطہ تیل کی درآمد بند کرے گا اور امریکی توانائی کی مصنوعات خریدے گا۔ اس تجارتی معاہدے کے تحت امریکہ ہندوستان پر باہمی ٹیرف کی شرح کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دے گا۔
 



Comments


Scroll to Top