انٹر نیشنل ڈیسک: مشرقی وسطی میں بڑھتی ہوئی جنگ کے دوران روس کے ایران کو خفیہ جانکاری دینے کی خبروں پر امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے زیادہ اہمیت نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر روس واقعی ایران کو معلومات دے بھی رہا ہے، تو بھی اس سے ایران کو کوئی بڑا فائدہ نہیں ہو رہا۔
ٹرمپ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب وہ کویت میں ڈرون حملے میں مارے گئے چھ امریکی فوجیوں کی قومی عزت کے ساتھ آخری رسومات میں شریک ہوئے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر میڈیا اداروں کی رپورٹس میں دعوی کیا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ روس نے ایران کو کچھ حساس معلومات دی ہیں۔ بتایا گیا کہ اسی معلومات کی بنیاد پر ایران نے امریکی فوجی ٹھکانوں اور املاک کو نشانہ بنایا۔ تاہم، ٹرمپ نے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی۔
ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ پچھلے ہفتے کی واقعات سے یہ واضح ہے کہ ایران کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ پچھلے ہفتے ایران کے ساتھ جو ہوا ہے اس پر نظر ڈالیں، تو اس سے انہیں زیادہ مدد نہیں ملتی دکھ رہی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر روس اور ایران کے درمیان خفیہ تعاون کی تصدیق ہوتی ہے، تو اس سے مغربی ایشیا میں جنگ کا دائرہ اور بڑھ سکتا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ، اسرائیل، ایران اور روس کے درمیان بڑے جغرافیائی سیاسی ٹکرا ؤکی صورت اختیار کر سکتی ہے۔