انٹر نیشنل ڈیسک: ایران میں جاری جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ تہران کی درخواست پر وہ ایران کے توانائی کے کارخانوں پر حملے دس دن کے لیے روک رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مدت اب6 اپریل 2026 کو شام 8بجے تک بڑھا دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس دوران بات چیت جاری ہے اور ذرائع ابلاغ میں پھیلنے والی غلط معلومات کے باوجود مذاکرات بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ وقفہ جنگ بڑھنے کے بعد پہلی بار ہے جب ریاستہائے متحدہ امریکہ نے ایران کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے والے حملوں میں باقاعدہ نرمی دی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اس سے سفارتی حل کے لیے کچھ جگہ بن سکتی ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب پچھلے کئی ہفتوں سے امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے بنیادی ڈھانچے خاص طور پر تیل اور توانائی کی سہولتوں پر مسلسل حملے کیے جا رہے تھے۔ ان حملوں کا مقصد تہران کی فوجی اور معاشی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا جا رہا ہے۔
پورے علاقے میں کشیدگی بڑھی اور راکٹ اوڈرونز حملے تیز
ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے پورے علاقے میں راکٹ اورڈرونز حملے کیے۔ ان حملوں میں امریکی ٹھکانوں اور اتحادی ملکوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جس سے یہ کشیدگی ایک بڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ 10 دن کا وقفہ مستقل جنگ بندی کی طرف قدم ہے یا صرف عارضی روک۔ ٹرمپ کے بیان میں اس وقفے کو آگے بڑھانے کی شرطوں کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن ایرانی درخواست کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ دیتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔