انٹرنیشنل ڈیسک: دبئی میں حال ہی میںقدرت کا ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ گرجتے بادلوں کے درمیان سے نکلنے والی بجلی کی لکیر براہ راست دنیا کی سب سے بلند عمارت برج خلیفہ کی چوٹی سے ٹکرائی۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہاہے۔
ایک لمحے کے لئے چمک اٹھا دبئی
جیسے ہی بجلی عمارت کی چوٹی سے ٹکرائی پورا دبئی شہر ایک لمحے کے لئے دن کی طرح چمک اٹھا۔ کیمرے میں قید ان مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے بجلی کی لہریں بلند مینار کے چاروں طرف پھیل گئی۔ انٹرنیٹ پر لوگ اس منظر کو دیکھ کر دنگ ہیں کچھ اسے 'ڈراونا' بتا رہے ہیں تو کچھ کے لئے یہ 'ناقابل یقین' ہے۔
برج خلیفہ ہی کیوں بنتا ہے بجلی کا نشانہ
اکثر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بجلی بار بار اسی عمارت پر کیوں گرتی ہے؟ سائنس کی زبان میں سمجھیں تو برج خلیفہ کی اونچائی 828 میٹر اسے آسمان کے سب سے قریب لے جاتی ہے۔ اپنی وسیع اونچائی کی وجہ سے یہ پوری دبئی اسکائی لائن کے لئے ایک بڑا 'لائٹننگ راڈ' کی طرح کام کرتی ہے جو بادلوں کے چارج کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
اتنی بجلی گرنے کے بعد بھی کیسے محفوظ ہےعمارت
یہاں حیران کن بات یہ ہے کہ طاقتور بجلی گرنے کے باوجود نہ تو عمارت کو کوئی نقصان ہوا اور نہ ہی اس کے اندر موجود ہزاروں لوگ۔ عمارت کے سب سے اوپر حصے پر خاص دھات کی راڈ لگی ہے جو بجلی کو اپنی طرف متوجہ کر کے محفوظ طریقے سے پکڑ لیتی ہے۔ برج خلیفہ کا بیرونی ڈھانچہ اسٹیل اور ایلومینیم سے بنا ہے جو بجلی کے لئے راستے کا کام کرتا ہے۔ کرنٹ عمارت کے بیرونی حصے سے ہو کر زمین کے گہرے حصے میں جذب ہو جاتی ہے۔ اس عمل میں بجلی عمارت کے اندرونی حصوں یا برقی آلات تک نہیں پہنچ پاتی۔