انٹرنیشنل ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناو کے درمیان ایران کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے امریکی صدر کو سخت وارننگ دی ہے۔ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے سخت پیغام دیا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی روکنے کی کوشش کرتا ہے تو امریکہ “20 گنا زیادہ طاقت سے حملہ” کرے گا۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے لاریجانی نے لکھا، “ایران کی قربانی دینے والی عوام آپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی۔
آپ سے بڑے بڑے لوگ بھی ایران کو ختم نہیں کر پائے۔ ہوشیار رہیں، کہیں آپ خود ہی ختم نہ ہو جائیں۔” ایران پر پہلے بھی الزامات لگتے رہے ہیں کہ اس نے ٹرمپ کے قتل کی سازش کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم تہران نے ان الزامات کو کئی بار مسترد کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تیل کے راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کی سمندری تیل کی تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی طرح کا تناو عالمی تیل کی منڈی اور توانائی کی سپلائی پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی اور فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں تناوبڑھ گیا ہے۔