نیشنل ڈیسک: مشرق وسطی میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور فضائی حدود بند ہونے کے باعث کئی بین الاقوامی پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ اس کا اثر عام مسافروں سے لے کر معروف شخصیات تک پر پڑا ہے۔ اسی سلسلے میں مس انڈیا رنر- اپ اور سابق بگ باس کنٹیسٹنٹ( امیدوار )مانیا سنگھ بھی متحدہ عرب امارات میں پھنس گئی ہیں۔ مانیا26 فروری کو ایک کالج کانفرنس میں مقرر کی حیثیت سے شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچی تھیں۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد زیادہ تر لوگ 27 فروری کی رات ہی روانہ ہو گئے، لیکن انہوں نے ایک دن اور رکنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی28 فروری کو دوپہر دو بج کر پچاس منٹ پر ابو ظہبی سے واپسی کی پرواز تھی، جسے اچانک معطل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے وہ دبئی میں ہی رکی ہوئی ہیں۔
ہوائی اڈے پر خوفناک تجربہ
مانیا نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر موجود رہنے کے دوران انہوں نے اطراف میں دھماکوں کی آوازیں سنیں اور آسمان میں میزائلوں کی نقل و حرکت دیکھی۔ ان کے مطابق وہ لمحہ انتہائی خوفناک تھا۔ فی الحال شہر میں سناٹا چھایا ہوا ہے، کئی سڑکیں بند ہیں اور لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکیلی ضرور ہیں، لیکن گھبرانے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے، اس لیے خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ہوٹل کے قریب حملے کی خبر
مانیا نے یہ بھی بتایا کہ ابتدا میں ہوائی اڈے کی انتظامیہ کی جانب سے پھنسے ہوئے مسافروں کے لیے فیئرمونٹ دی پام (Fairmont The Palm) میں قیام کا انتظام کیا جا رہا تھا، لیکن وہاں کمرہ دستیاب نہیں ہو سکا۔ بعد میں انہیں سیل دبئی مرینا (Ciel Dubai Marina ) کے قریب ایک دوسرے ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ کچھ دیر بعد انہیں اطلاع ملی کہ جس علاقے میں وہ مقیم ہیں، اس کے سامنے واقع ایک ہوٹل پر حملہ ہوا تھا۔
سفارت خانے سے رابطے میں دشواری
پرواز دوبارہ کب شروع ہوگی، اس بارے میں اب تک کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی ہے۔ مانیا کے مطابق ان کا بین الاقوامی موبائل رابطہ کام نہیں کر رہا ہے اور وہ صرف وائی فائی کے ذریعے خاندان اور سفارت خانے سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی سفارت خانے سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن رابطے کے مسئلے کی وجہ سے عمل مکمل نہیں ہو سکا۔
تاہم متحدہ عرب امارات کی انتظامیہ پھنسے ہوئے مسافروں کی مدد کر رہی ہے اور ہوائی کمپنی کی جانب سے اگلی دستیاب پرواز کی معلومات دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
ہدایت، گھروں کے اندر رہیں
مقامی انتظامیہ نے لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ مانیا نے بتایا کہ وہ تمام ہدایات پر عمل کر رہی ہیں اور اپنے کمرے میں ہی محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کے وقت انہیں اپنے ملک کی حفاظتی انتظامات پر فخر محسوس ہو رہا ہے اور وہ جلد از جلد بھارت واپس آنا چاہتی ہیں۔
خاندان کی بڑھتی ہوئی تشویش
ہندوستان میں ان کا خاندان مسلسل خبروں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہر نئی اطلاع ان کے لیے تشویش بڑھا دیتی ہے۔ مانیا نے بتایا کہ خاندان کے افراد بار بار ان کی خیریت دریافت کرتے ہیں اور وہ انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ محفوظ ہیں۔ ساتھ ہی ہوٹل کے عملے کو بھی ہنگامی حالت میں خاندان سے رابطہ کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔