واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ایک اہم ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات تقریبا تین گھنٹے تک جاری رہی، جس میں ایران کے نیوکلیئر معاہدے سمیت کئی دوسرے سنجیدہ مسائل پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔
ایران کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی
ملاقات ختم ہونے کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ نیوکلیئر معاہدے پر ایران کے ساتھ بات چیت جاری رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات بہت اچھی رہی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال کسی بھی معاملے پر کوئی آخری فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
اہم مسائل پر گفتگو
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو خاص طور پر ایران کے معاملے اور دیگر علاقائی حالات پر بات چیت کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے تھے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس طویل گفتگو کو بین الاقوامی سطح پر بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل میڈیا پر لکھا کہ میں نے ابھی ابھی اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے کئی نمائندوں کے ساتھ ملاقات ختم کی ہے۔ یہ بہت اچھی ملاقات تھی۔ ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان زبردست تعلقات قائم ہیں۔ کوئی پکی بات نہیں ہوئی ، سوائے اس کے کہ میں نے زور دیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھی جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ معاہدہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اگر ہو سکتا ہے تو میں نے وزیر اعظم کو بتا دیا ہے کہ یہ ان کی پسند ہوگی۔ اگر نہیں ہو سکتا تو ہمیں صرف یہ دیکھنا ہوگا کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔
پچھلی بار ایران نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کے لیے معاہدہ نہ کرنا ہی بہتر ہے اور انہیں مڈنائٹ ہیمر سے چوٹ لگی تھی ۔ یہ ان کے لیے اچھا نہیں رہا۔ امید ہے کہ اس بار وہ زیادہ سمجھدار اور ذمہ دار ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہم نے غزہ اور عام طور پر اس علاقے میں ہو رہی زبردست ترقی پر بھی بات کی۔ مشرق وسطی میں واقعی امن ہے۔ اس معاملے پر توجہ دینے کے لیے آپ کا شکریہ۔
قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جہاں ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی بات کر رہی ہے، وہیں انتظامیہ اوبامہ کی ماحولیاتی پالیسی کو منسوخ کرنے جیسے کئی دوسرے بڑے فیصلے بھی کر رہی ہے۔