انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کوہندوستان پر لگایا گیا اضافی 25 فیصد ٹیرف ہٹانے کا حکم جاری کر دیا۔ یہ ٹیرف روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر لگایا گیا تھا۔ اب اس قدم کو حال ہی میں اعلان کیے گئے ہند - امریکہ تجارتی معاہدے کو نافذ کرنے کی سمت بڑا فیصلہ مانا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے دستخط شدہ ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے براہ راست یا بالواسطہ طور پر روس سے تیل کی درآمد روکنے کا عہد کیا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ ٹیرف ہٹایا جا رہا ہے۔ امریکی حکم کے مطابق، ہندوستان نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ امریکہ سے توانائی کی مصنوعات خریدے گا اور اگلے 10 برسوں میں دفاعی تعاون بڑھانے کے لیے ایک ڈھانچہ تیار کرے گا۔ یہ اضافی 25 فیصد محصول ہفتہ کی صبح 12 بج کر ایک منٹ (امریکی مشرقی وقت)سے باضابطہ طور پر ختم ہو جائے گا۔
تجارتی معاہدے کے بعد کشیدگی میں کمی
یہ فیصلہ اس تجارتی معاہدے کے چند دن بعد آیا ہے، جس میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ کے باعث روس سے تیل کی خریداری روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ نے ہندوستان پر لگائے گئے نام نہاد ' ریسی پروکل ٹیرف ' کو 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کرنے پر بھی رضامندی دی ہے۔ تاہم، اس کمی کو نافذ کرنے کی باضابطہ کارروائی ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔
طیاروں اور دیگر سامان پر بھی راحت
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ طیاروں اور طیاروں کے پرزوں پر لگے ٹیرف ہٹا دیے جائیں گے۔ ہندوستان اگلے پانچ برسوں میں امریکہ سے تقریبا 500 ارب ڈالر کی مصنوعات خریدے گا، جن میں شامل ہوں گے۔
- توانائی کی مصنوعات۔
- طیارے اور طیاروں کے پرزے۔
- قیمتی دھاتیں۔
- ٹیکنالوجی کی مصنوعات۔
- کوکنگ کول۔
ہندوستان کے لیے بڑا فائدہ کیوں
گزشتہ سال کے آخر میں امریکہ نے ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا کر 50 فیصد تک کر دیا تھا۔ اب یہ گھٹ کر 18 فیصد ہو گیا ہے، جو ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے بڑی راحت ہے۔ ماہر وینڈی کٹلر کے مطابق، 18 فیصد ٹیرف کے ساتھ ہندوستانی برآمد کنندگان کو ایشیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں کچھ بہتر مسابقتی برتری ملے گی، کیونکہ دیگر ممالک پر تقریبا 19 سے 20 فیصد محصول لگ رہا ہے۔
روس تیل تنازع ختم، تعلقات پھر مضبوط
امریکہ طویل عرصے سے ہندوستان کی روس سے تیل خرید پر ناراض تھا، کیونکہ واشنگٹن کا ماننا تھا کہ اس سے یوکرین جنگ کو مالی مدد مل رہی ہے۔ اب اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی کو اپنے سب سے قریبی دوستوں میں سے ایک قرار دیا ہے، جس سے واضح ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی اور سفارتی تعلقات پھر مضبوط ہو رہے ہیں۔