واشنگٹن: نوبل امن انعام کے حوالے سے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ناراضگی اب بھارت کے بعد پولینڈ تک پہنچ گئی ہے۔ پولینڈ کی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان (سیجم) کے اسپیکر ولودڑمیئرڑ چارزاستی کی جانب سے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نااہل قرار دینے کے بعد امریکہ نے ان کے ساتھ تمام سرکاری تعلقات ختم کر دیے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے دنیا میں آٹھ جنگیں ختم کروائی ہیں اور اسی لیے وہ نوبل امن انعام کے مستحق ہیں۔ لیکن جب اس دعوے پر سوال اٹھائے گئے، تو ٹرمپ انتظامیہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
پولینڈ کے اسپیکر چارزاستی نے سوموار کو صاف الفاظ میں کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نوبل امن انعام کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسی طاقت کے مظاہرے اور سودے بازی والی سیاست پر مبنی ہے، جس میں اکثر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ چارزاستی کے اس بیان کے بعد پولینڈ میں امریکی سفیر ٹام روز نے اعلان کیا کہ امریکہ اسپیکر کے ساتھ تمام رابطے ختم کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بیان کو صدر ٹرمپ کے خلاف توہین آمیز اور بغیر اشتعال کے حملہ قرار دیا۔ یہ قدم اس لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ پولینڈ طویل عرصے سے امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی رہا ہے۔ پولینڈ 1999 سے نیٹو کا رکن ہے اور اس کے فوجیوں نے عراق اور افغانستان میں امریکی مہمات میں حصہ لیا ہے۔ روس-یوکرین جنگ کے بعد پولینڈ نے لاکھوں یوکرائنی مہاجرین کو بھی پناہ دی ہے۔
امریکی کارروائی کے بعد پولینڈ میں سیاسی اور عوامی ردعمل تیز ہو گیا۔ ایک ٹی وی چینل کی جانب سے کرائے گئے آن لائن سروے میں 78 فیصد لوگوں نے کہا کہ چارزاستی کو اپنے بیان پر قائم رہنا چاہیے، جبکہ صرف 22 فیصد لوگوں نے بیان واپس لینے کی حمایت کی۔ پولینڈ کے وزیرِ اعظم ڈونالڈ ٹسک نے سوشل میڈیا پر امریکی سفیر کو جواب دیتے ہوئے لکھا، اتحادی ممالک کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے، نصیحت نہیں دینا چاہیے۔ پولینڈ میں شراکت داری کا یہی مطلب ہے۔سابق امریکی فوجی کمانڈر بین ہوجز نے بھی امریکہ کی اس کارروائی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ اپنے سب سے قریبی اتحادیوں کو ناراض کر رہا ہے۔ پولینڈ کے رکن پارلیمنٹ رومن گیئرٹِکھ نے امریکی فیصلے کو مغرورانہ قرار دیا اور ٹرمپ کی نوبل کی مانگ کا موازنہ رومن شہنشاہ نیرو سے کیا، جو خود کو عظیم فنکار سمجھتا تھا۔