لندن: مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تناو کے درمیان وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ فی الحال ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ ایران برطانیہ کو دور مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مسلسل سکیورٹی کا جائزہ لے رہی ہے اور ملک محفوظ ہے۔ اسٹارمر نے یہ بیان اس وقت دیا جب رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ایران نے بحر ہند میں واقع ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے پر میزائل داغے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ برطانیہ بھی نشانے پر آ سکتا ہے لیکن وزیر اعظم نے ان خدشات کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی پہلی ترجیح برطانیہ کے مفادات کا تحفظ کرنا اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناو کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ محفوظ طریقے سے کھولنے کے لیے مضبوط منصوبہ بندی اور احتیاط ضروری ہے۔ اس دوران لندن میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تنازع میں شامل نہ ہو اور امن کی سمت میں کام کرے۔
دوسری طرف برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے اپنی فوجی تیاریاں بھی بڑھا دی ہیں۔ ایچ ایم ایس اینسن نامی جوہری آبدوز بحیرہ عرب میں تعینات کی گئی ہے جو ضرورت پڑنے پر میزائل حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سے اشارے ملتے ہیں کہ اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو برطانیہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ہونے والے حملوں کو روکا جا سکے۔ تاہم برطانیہ نے یہ بھی دہرایا ہے کہ وہ اس تنازع میں مکمل طور پر شامل ہونے سے بچنا چاہتا ہے۔