انٹر نیشنل ڈیسک: مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان وزارت خارجہ نے بھارتی شہریوں کی سلامتی کے بارے میں اہم معلومات دی ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل میں موجود تمام بھارتی شہری اس وقت محفوظ ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ ایک بھارتی شہری کے زخمی ہونے کی خبر سامنے آئی تھی لیکن اب وہ بھی محفوظ ہے اور بھارتی سفارت خانہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
تاہم پورے مغربی ایشیا میں حالات سنگین بنے ہوئے ہیں۔ وزارت کے مطابق اب تک اس تنازع میں چھ بھارتی شہریوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص زخمی ہے اور ایک اب بھی لاپتا ہے۔ یہ واقعات مختلف ملکوں میں پیش آئے ہیں جس سے یہ واضح ہے کہ خطرہ پورے خطے میں پھیلا ہوا ہے۔ اس سے پہلے ریاض میں میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران ایک بھارتی شہری کی موت ہوئی تھی۔ وزارت خارجہ کے افسر عاصم مہاجن نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندان کے رابطے میں ہے اور لاش کو جلد بھارت لانے کا عمل جاری ہے۔
اس کے علاوہ عمان متحدہ عرب امارات اور عراق جیسے ملکوں میں بھی کئی بھارتی مزدور اور جہازوں کے کارکن زخمی ہوئے ہیں۔ خاص طور پر سمندری حملوں میں بھارتی ملاحوں کو نقصان پہنچا ہے جس سے صورتحال مزید تشویش ناک ہو گئی ہے۔ حکومت نے بتایا کہ حال ہی میں ایک امریکی تیل بردار جہاز سیف سی وشنو پر حملے کے بعد اس کے پندرہ بھارتی عملے کے ارکان کو محفوظ طریقے سے بھارت لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس حملے میں ایک بھارتی ملاح کی موت بھی ہوئی تھی جس کی لاش واپس لانے کی کوشش جاری ہے۔
بھارت حکومت اس پورے بحران میں بڑے پیمانے پر امداد اور بچاو¿ مہم چلا رہی ہے۔ اب تک قریب تین لاکھ بھارتی مغربی ایشیا سے واپس لوٹ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران سے بھی913بھارتی شہریوں کو آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے محفوظ نکالا گیا ہے جن میں سے کئی لوگ بھارت واپس پہنچ چکے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں قریب ایک کروڑ بھارتی شہری رہتے ہیں اس لیے ان کی سلامتی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اسی وجہ سے بھارت مسلسل خطے کے ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔