National News

سری لنکا نے دوسرے ایرانی جہاز کو ''ڈاک'' کرنے کی اجازت دی، جہاز پر سوار 208 افراد کو محفوظ نکالا

سری لنکا نے دوسرے ایرانی جہاز کو ''ڈاک'' کرنے کی اجازت دی، جہاز پر سوار 208 افراد کو محفوظ نکالا

کولمبو: سری لنکا نے جمعرات کو ایران کے دوسرے جہاز کو مشرقی بندرگاہ ترینکومالی پر ڈاک یعنی لنگر ڈالنے کی اجازت دی اور جہاز پر سوار تمام 208 عملے کے افراد کو محفوظ نکال لیا۔ صدر انورا کمارا دسانائیکے نے یہ معلومات دی۔ اس سے ایک دن پہلے، سری لنکا کے قریب ایران کے ایک بحری جہاز یعنی فریگیٹ پر حملہ ہوا تھا۔
ٹیلی ویژن پر نشر اپنے خطاب میں، دسانائیکے نے کہا کہ جہاز آئی آر آئی این ایس بوشہر نے انجن کی خرابی کا حوالہ دیتے ہوئے سری لنکا کے آبی علاقے میں داخل ہونے کی اجازت مانگی تھی۔ انہوں نے کہا، ہم انسانی امداد کرتے وقت غیر جانبدار رہنا چاہتے تھے۔ صدر نے کہا کہ سری لنکا کا کردار تنازع میں شامل ایک فریق کی درخواست پر ردعمل دینے تک ہی محدود تھا۔ صدر نے کہا، ہر زندگی انمول ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاز پر سوار عملے کے تمام 208 افراد کو محفوظ نکال لیا گیا ہے۔
اس سے پہلے دن میں، سری لنکا نے کہا تھا کہ ایک اور ایرانی جہاز نے اس کے آبی علاقے میں داخل ہونے کی اجازت مانگی ہے اور اس سلسلے میں وہ مناسب قدم پر غور کر رہا ہے۔ سری لنکن حکام نے بدھ کو کہا تھا کہ انہوں نے سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب امریکی آبدوز کے حملے کے بعد ڈوبے آئیریس دینا نامی ایرانی جہاز سے تقریباً 80 ایرانی ملاحوں کی لاشیں برآمد کی ہیں۔
حکومت کے ترجمان اور وزیر نلندا جیاتسسا نے پارلیمنٹ میں مرکزی اپوزیشن لیڈر ساجیت پریم داسا کی طرف سے دوسرے ایرانی جہاز کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا، ہمیں اس کی معلومات ہیں اور ہم جہاز پر موجود تمام لوگوں کی جان کی حفاظت کے لیے ضروری قدم کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ہم علاقائی امن کی حفاظت کی خاطر اس مسئلے کے حل کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔
جیاتسسا نے کہا کہ جہاز سری لنکا کے توسیع شدہ اقتصادی زون یعنی ای ای زیڈ میں انتظار کر رہا ہے، لیکن وہ اس کے آبی علاقے سے باہر ہے۔ ذرائع نے کہا کہ جہاز نے ہنگامی مدد کی درخواست کی ہے۔ اس دوران، امریکہ کی طرف سے ٹارپیڈو سے نشانہ بنائے گئے جہاز کے عملے کے زندہ بچ جانے والے افراد کا علاج کیا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے ذرائع نے کہا کہ ان کی چوٹیں سنگین نہیں ہیں۔ مارے گئے 84 ایرانی بحری اہلکاروں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم گال کے کراپیٹیا ہسپتال میں کیا جائے گا۔
اسی ہسپتال میں زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ جس جہاز پر حملہ ہوا، وہ بحری بیڑے کے جائزہ مشق کے بعد بھارت کے وشاکھاپٹنم سے اپنے ملک واپس جا رہا تھا۔ سری لنکن بحریہ نے تاہم یہ وجہ نہیں بتائی کہ جہاز نے ہنگامی پیغام کیوں بھیجا تھا لیکن امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایک امریکی آبدوز نے بین الاقوامی آبی علاقے میں ایک ایرانی جنگی جہاز کو ڈبو دیا۔


 



Comments


Scroll to Top